جمعرات 01 اکتوبر 2020ء
جمعرات 01 اکتوبر 2020ء

گندم اور آٹے کا بحران سنگین صورت ااختیار کر گیا،پرچون میں آٹے کی فی کلو کس قیمت پر بیچاجانے لگا عوام نئی مشکل میں پھنس گئی

حیدرآباد(این این آئی)گندم اور آٹے کا بحران سنگین صورت ااختیار کر گیا، پرچون میں آٹے کی فی کلو قیمت 66 روپے سے تجاوز کر گئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں 5200 روپے فی 100 کلو تک پہنچ گئی ہے اور ابھی نئی گندم آنے میں ایک ماہ باقی ہے۔حیدرآباد اور آس پاس کے علاقوں میں آٹے کی شدید گرانی کا بحران کم ہونے کا نام نہیں لے رہا، کھلی مارکیٹ میں 100 کلو گندم کی بوری کے نرخ دو روز 200 روپے بڑھے ہیںاور 5200 روپے ہو گئے ہیں اگر چہ وفاقی حکومت نے ملک بھر میں بحران کے شدت اختیار googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); کرنے بعد گندم کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے جسے پہنچنے میں چند ہفتے لگیں گے اور سندھ جہاں ایک ماہ پہلے گندم کی کٹائی شروع ہوتی ہے یہاں بھی شدید سردی پڑنے کی وجہ سے قدرے تاخیر سے نئی گندم فروری میں مارکیٹ میں آئے گی،صوبائی وزیر اسماعیل راہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرانسپورٹ کی تین روزہ ہڑتال سے گندم کی ترسیل میں تاخیر ہوئی ہے، تین روز میں آٹے کی قیمت فی کلو 45 روپے تک ا ٓجائے گی لیکن اس پر عوام سمیت کوئی بھی اعتبار کرنے کے لئے تیار نہیں ہے، حکومت اور محکمہ خوراک سندھ ذخیرہ اندوزوں بڑے بیو پاریوں اور ناجائز منافع کمانے والوں کے خلاف اکتوبر سے کوئی موثر قدم اٹھانے میں ناکام رہے ہیں اور بری طرح عوام کا خون چوسا جا رہا ہے، گذشتہ سال وفاق سے فنڈز نہ ملنے اور سابقہ وافر ذخائر موجود ہونے کا بہانہ بنا کر سندھ حکومت نے کاشتکاروں سے گندم نہیں خریدی تھی جس کا گندم مافیا آٹا مافیا اور ذخیرہ اندوزوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا تھا، کئی سال پہلے کی مقرر امدادی قیمت 1300روپے من کے مقابلے میں مجبور کاشتکاروں سے 1050 سے1200 فی من کی قیمت پر گندم خریدی تھی، اکتوبر سے اب تک کھلی مارکیٹ میں گندم کی قیمت میں تقریباً ایک ہزار روپے کا اضافہ ہو گیا ہے، اس وقت 100 گندم کی قیمت 5200 تک پہنچ گئی ہے، محکمہ خوراک کے گوداموں سے لاکھوں بوری گندم خورد برد کرنے میں ملوث افسران کے خلاف کوئی موثر قانونی کاروائی سے گریزاں ہے کیونککہ اس میں حکومت اور افسر شاہی کے بڑے نام بھی آتے ہیںاس کا نتیجہ یہ ہے گندم کے وسیع ذخائر موجود ہونے کے دعوے ہوا ہو چکے ہیں جو گندم موجود ہے وہ بھی منصفانہ طور پر فلور ملوں اور چکیوں کو نہیں دی جا رہی، فلور ملیں چونکہ میدہ سوجی بھوسی سے بڑا منافع کماتی ہیں اور پھر آٹا بھی زیادہ ہوٹلوں تندوروں کارخانوں کو مہنگا فروخت کرتی ہیں اس لئے ان سے محکمہ خوراک کے افسران کو زیادہ کمیشن ملتا ہے اسی لئے فلور ملز کورعائتی گندم وافر دی جاتی ہے اور چکی مالکان کو طلب کے مقابلے میں 20 فیصد کے قریب ہی جاری ہوتی ہے جبکہ شہروں قصبوں میں آبادی کی اکثریت چکیوں سے آٹا لیتی ہے، چکی مالکان جہاں کئی ماہ سے محکمہ خوراک اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسران سے رعائتی گندم کا کوٹہ بڑھانے کے لئے احتجاج کر رہے ہیں وہیں کنکریاں اور مٹی ملی گندم فراہم کئے جانے پر بھی سخت برہم ہیں، محکمہ خوراک کےافسران نے گوداموں پر ایسی گندم تبدیل کرنے کی یقین دھانی کرائی تھی مگر اس پر پوری طرح عمل نہیں ہو رہااور خراب گندم کا آٹا ضائع ہونے سے چکی مالکان مالی نقصان اٹھا رہے ہیں، مہنگا خراب آٹا ملنے پر شہری بھی پریشان ہیں، سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کی ناقص پالیسیوں اور غفلت کی وجہ سے بدترین مہنگائی کے دور میں آٹا بھی عام شہریوں کی پہنچ سے دور ہو رہا ہے، درآمدی یا نئی گندممارکیٹ میں آنے پر قیمتیں کم ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے لیکن ابھی ایک ماہ شہری شائد اسی طرح لٹتے رہیں گے،کاشتکاروں میں بھی سخت مایوسی پائی جاتی ہے کیونکہ نئی فصل آنے والی ہے اور وفاقی حکومت اور سندھ حکومت گندم کی امدادی قیمت اور خریداری کا ہدف مقرر کرنے کے لئے ابھی کاشتکار تنظیموں کی قیادت سمیت اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت بھی شروع نہیں کی۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں