جمعه 22 نومبر 2019ء
جمعه 22 نومبر 2019ء

تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد

وہ اس وقت لان میں بیٹھے تھے‘ سردیاں شروع ہو چکی تھیں‘ ہوا میں نمی اور خنکی تھی‘ میں نے پوچھا ”سر ملک کا کیا بنے گا“ وہ چونکے اور میری طرف دیکھا‘ مجھے اس وقت ان کی آنکھوں میں دکھ کی گہری پرچھائیاں دکھائی دیں‘ وہ دیر تک مجھے دیکھتے رہے اور پھر دکھی لہجے میں بولے” الطاف میں اس وقت زندہ نہیں ہوں گا لیکن تم دیکھو گے مجھے کتا کہنے والے اپنی زبانیں اپنے دانتوں تلے کچلیں گے اور یہ میری تصویروں کو سلام کریں گے“۔میں نے ہاں میں سر بھی ہلا دیا لیکن سچ یہ ہے مجھے ان کی بات پر یقین نہیں تھا‘ مجھے محسوس ہو رہا تھا میرا صدر اس نفسیاتی بیماری کا شکارہے جس میں انسان کو پوری دنیا googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); میں اپنے علاوہ کوئی دکھائی نہیں دیتا‘ وہ خود کو مرنے کے بعد بھی یاد گار سمجھنے لگتا ہے‘ میں نے انہیں سلام کیا اور اٹھ آیا لیکن جاوید تم یقین کرو میں نے اپنی زندگی میں صدر ایوب خان کی بات سچ ہوتے دیکھی‘ ایوب خان کے انتقال کے صرف پانچ سال بعد بسوں‘ ٹرکوں‘ دکانوں اور دیواروں پر ایوب خان کے پوسٹر لگے تھے اور ان پر لکھا تھا ”تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد“ اور لوگ ان پوسٹروں کو سلام بھی کرتے تھے اور چومتے بھی تھے۔یہ الطاف گوہر تھے‘ آج کی نسل یقینا الطاف گوہر کو نہیں جانتی ہو گی لیکن بیورو کریسی اور تاریخ سے واقف لوگ اس شخص کا نام کبھی فراموش نہیں کر سکتے‘ وہ سینئر بیورو کریٹ اور شان دار دانشور تھے‘ ایوب خان کے پرسنل اور انفارمیشن سیکرٹری رہے اور وہ ملک کے زیادہ تر گورنر جنرلز‘ صدور اور وزراءاعظم کے پرسنل سیکرٹری بھی رہے تھے لہٰذا غلام محمد سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو تک تاریخ کو اپنی آنکھوں سے بنتے اور بگڑتے دیکھا تھا‘ میں 1994ءمیں الطاف گوہر کے گھر گیا اور پھر ان کے انتقال تک ان کے ساتھ گہرے تعلقات رہے‘ ان کا گھر‘ گھر کم اور لائبریری زیادہ تھا‘ سیڑھیوں کے ساتھ بھی کتابوں کے ریکس تھے اور بیڈ روم‘ لاﺅنج‘ کچن حتیٰ کہ باتھ روم میں بھی کتابیں ہی کتابیں تھیں اور میں جس کتاب کو بھی کھول کر دیکھتا تھا اس کے صفحے بھی دہرے ہوتے تھے‘ فقروں کے نیچے لکیریں بھی ہوتی تھیں اور فٹ نوٹ بھی لکھے ہوتے تھے۔اس کا مطلب تھا الطاف گوہر نہ صرف یہ کتاب پڑھ چکے ہیں بلکہ یہ اس کے متن کو بھی کھول کر دیکھ چکے ہیں‘ بیگم صاحبہ نستعلیق خاتون تھیں‘ ساڑھی باندھتی تھیں اور گوہر صاحب کے ملاقاتیوں کی خدمت کرتی تھیں‘ میں ان سے ماضی کے واقعات سنتا تھا اور گھر جا کر نوٹس بنا لیتا تھا‘ مجھے ایک دن الطاف گوہر نے صدر ایوب خان کے بڑھاپے اور بیماری کا واقعہ سنایا‘ پاکستان ٹوٹ چکا تھا‘ ذوالفقار علی بھٹو کا دور شروع ہو چکا تھا‘ بھٹو صاحب نے بیمار اور بوڑھے ایوب خان کا احتساب بھی شروع کر دیا تھا۔روز کوئی نہ کوئی نوٹس جاری ہوتا تھا اور کوئی نہ کوئی سرکاری اہلکار تفتیش کے لیے ایوب خان کے گھر آتا تھا‘ الطاف گوہر ملاقات کے لیے ایوب خان کے گھر گئے‘ صدر ایوب خان اس وقت لان میں بیٹھے تھے اور انہوں نے اس وقت الطاف گوہر سے کہا تھا‘ مجھے کتا کتا کہنے والے اپنی زبانیں اپنے دانتوں تلے کچلیں گے اور میری تصویروں کو سلام کریں گے‘گوہر صاحب نے یہ واقعہ سنانے کے بعد تاریخی تبصرہ کیا‘ ان کا کہنا تھا پاکستان میں اگر کسی دور میں تعمیراتی کام ہوا تو وہ ایوب خان کا دور تھا۔پاکستان اس وقت حقیقتاً ترقی پذیر ملکوں کی دوڑ میں شامل ہو چکا تھا‘ دنیا کا سب سے بڑا ڈیم‘ سب سے بڑا نہری نظام‘ بجلی کی پہلی ٹرین‘ ایشیا کی سب سے بڑی انڈسٹریل سٹیٹ‘ سب سے بڑی ائیر لائین‘ ٹیلی ویژن کی پہلی رنگین نشریات‘ دنیا کی سب سے مضبوط فوج‘ ایشیا کا سب سے مو¿ثر تعلیمی نظام‘ قومی بچت کی سب سے بڑی سکیم اور فیملی پلاننگ کا سب سے بڑا منصوبہ آپ کسی بھی فیلڈ کو دیکھ لیں آپ کوایوب خان کے دور میں ہر شعبہ پیک پر دکھائی دے گا لیکن ہم کیوں کہ احسان فراموش لوگ ہیں لہٰذا ہم نے ایوب خان کو ذلیل کر کے نکال دیا اور پھر اس کو بیماری اور بڑھاپے میں نوٹس بھی دینا شروع کر دیے۔وہ اس سلوک کے لیے تیار نہیں تھے لہٰذا وہ گھٹ گھٹ کر مر گئے‘ پھر یحییٰ خان کے دور میں ملک ٹوٹ گیا اور ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں معیشت کا جنازہ نکل گیا اور امداد دینے والا ملک امداد لینے پر مجبور ہو گیا‘ ملک کے 22 صنعتی خاندان بھکاری خاندان بن گئے‘ کراچی روشنیوں کا شہر تھا‘ یہ ایشیا کا اندھا شہر بن گیا چناں چہ ایوب خان کی قبر کی مٹی سوکھنے سے پہلے لوگوں کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اور یہ اس کی تصویر کو ہار پہنانے لگے مگر اس وقت تک دیر ہو چکی تھی‘ تاریخ‘ تاریخ کے اوراق میں دفن ہو چکی تھی۔مجھے آج بھی یاد ہے الطاف گوہر صاحب نے اس کے بعد فرمایا تھا ”میری پوری زندگی کا سبق ہے قدرت احسان فراموش لوگوں کو معاف نہیں کیا کرتی‘ ہم نے ایوب خان کے احسانات کا احساس نہیں کیا لہٰذا ہم خوار ہو رہے ہیں اور ہم خوار ہوتے رہیں گے“ وہ رکے اور پھر ہنس کر فرمایا ”میں بھٹو کوایوب خان کا محسن سمجھتا ہوں‘ کیوں؟ کیوں کہ اگر وہ نہ آتے اور وہ اداروں کو قومیانے کی حماقت نہ کرتے تو لوگوں کو ایوب خان کی قدر نہ ہوتی‘ قوم کو کبھی یہ اندازہ نہ ہوتا ایوب خان کتنے بڑے انسان تھے سو تھینکس ٹو بھٹو صاحب“۔مجھے یہ واقعہ پچھلے ماہ سے بار بار یاد آ رہا ہے‘ ملک میں اس وقت ڈینگی خوف ناک وبا کی طرح پھیل رہا ہے‘مریضوں کی تعداد10 ہزاراوردو درجن ہلاکتیں ہو چکی ہیں‘اس وبا اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکی ڈینگی کنٹرول کی مہارت نے قوم کو میاں شہباز شریف یاد دلا دیے ‘ ڈینگی اور عثمان بزدار دونوں نہ ہوتے تو قوم اب تک میاں شہباز شریف کو بھول چکی ہوتی‘یہ عثمان بزدار کی وسیم اکرم پلس شخصیت اور عمران خان کی گوہر شناس نظریں ہیں جن کی وجہ سے پنجاب بلکہ پورے ملک کو پتا چل گیا میاں شہباز شریف کتنا بڑا منتظم اور پرفارمر تھا ور لوگ اب بآواز بلند کہہ رہے ہیں ایوب خان کے بعد یہ دوسرا شخص تھا جس نے حقیقتاً صوبے کی شکل بدل دی ۔عثمان بزدار سے پہلے کراچی سے لاہور آنے والے لوگ منہ سے کہتے تھے ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے ہم کسی دوسرے ملک میں آ گئے ہیں‘ یہ شخص کتنا بڑا جن تھا قوم کو آج اس کا اندازہ ہو رہا ہے‘ پنجاب کی موجودہ ایمان دار قیادت سال میں وہ اورنج لائین ٹرین نہیں چلا سکی جو میاں شہباز شریف مکمل کر کے گیا تھا‘ بس ٹرین کے انجن کی چابی گھمانے کی دیر تھی اور یہ ٹرین چل پڑتی لیکن وسیم اکرم پلس ایک سال میں چابی نہیں گھما سکا‘ ڈینگی سری لنکا آیا اور یہ جاتے جاتے ہزاروںجانیں لے گیا۔پاکستان میں11- 2010ءمیں ڈینگی کی وبا آئی مگر میاں شہباز شریف نے اسے سنجیدگی سے لیا اور سری لنکا اور انڈونیشیا سے ڈاکٹروں کی خصوصی ٹیمیں بلوائیں‘ ہم لوگ سمجھتے تھے ڈینگی بارش کے صاف پانی‘ واٹر ٹینک ‘ صاف پانی کے برتنوں‘ گھڑوں اور گملوں میں پرورش پاتا ہے لیکن ان غیر ملکی ماہرین نے آ کر بتایا ڈینگی مچھر کی زیادہ افزائش کوڑے کرکٹ میں ہوتی ہے‘اس انکشاف کے بعد پنجاب میں کوڑا ٹھکانے لگانے کا نظام بہتر بنا دیا گیا۔لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی بنائی گئی اور دو ترک کمپنیوں کو کوڑا ٹھکانے لگانے کا کام دے دیا گیا‘ کمپنیوں کو فی ٹن کوڑے کے بدلے سترہ ڈالر دیے جاتے تھے‘لاہور میں صفائی کا بہترین نظام قائم ہو گیا اور 2012ءتک ڈینگی کنٹرول کر لیا گیا اور یہ مرض ہر آنے والے سالوں میں کم سے کم تر ہوتا چلا گیا مگر عثمان بزدار اور عمران خان کی باوضو حکومت میں یہ خوف ناک طریقے سے واپس آیا اور تباہی پھیلانا شروع کر دی مگر آپ پرفارمنس کا کمال دیکھیے‘ حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ہم نے ابھی تک ڈینگی الرٹ اور میڈیکل ایمرجنسی کا اعلان بھی نہیں کیا‘ ہم تیزی سے لاہور سمیت ملک کے تمام شہروں کو کراچی بناتے چلے جا رہے ہیں لہٰذا مجھے مکمل یقین ہے کچھ ماہ بعد کراچی سے لاہور اور لاہور سے کراچی جانے والوں کو بھی اجنبیت کا احساس نہیں ہو گا‘ یہ خود کو ایک ہی ملک کے شہری سمجھیں گے اور ڈینگی بھی پورے ملک میں پھیل چکا ہو گا‘ حکومت نے ایک سال میں جس طرح ملک کی مت ماری ہمارے بزرگوں کی روحوں کو یقینا بہت سکون نصیب ہوا ہو گا۔یہ سمجھتے تھے قوم نے صدر ایوب خان کی قدر نہ کر کے ظلم کیا‘ یہ اب تک جان چکے ہوں گے احسان فراموشی کی روایات صرف ایوب خان تک نہیں رہیں‘ یہ ابھی تک جاری اور ساری ہیں‘ ہم نے میاں شہباز شریف کی قدر نہ کر کے وہ روایت دہرا دی ہے‘ آج یقینا جو سلوک میاں شہباز شریف کے ساتھ ہو رہا ہے یہ دیکھ کر ایوب خان کو بھی تکلیف ہو رہی ہو گی‘یہ بھی تڑپ رہے ہوں گے۔ہم نے میاں شہباز شریف کے بعد دوسرا ظلم شاہد خاقان عباسی کے ساتھ کیا۔یہ کتنا بڑا اور شان دار انسان ہے ہم لوگ سوچ بھی نہیں سکتے‘ شاہد خاقان عباسی نے 2013ءمیں ایل این جی کا ٹھیکہ دیا تھا‘ آپ نیلامی میں کام یاب نہ ہونے والی کمپنیوں کے سربراہان کو بلا کر پوچھ لیں‘ یہ بھی گواہی دیں گے نیلامی صاف بھی تھی اور شفاف بھی‘ ہم اگر آج سستی بجلی بنا رہے ہیں یا ہماری انڈسٹری اور گھروں کو گیس مل رہی ہے تو یہ شاہد خاقان عباسی کا کمال تھا‘ ہم کم زور یادداشت کے احسان فراموش لوگ ہیں‘ ہم یقینا بھول چکے ہیں ملک میں 2013ءمیں بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے ریلیاں نکلتی تھیں۔ لوگ بجلی اور گیس کے دفتروں پر حملے کرتے تھے لیکن پھر یہ لوگ آئے اور ملک میں بجلی اور گیس دونوں پوری ہو گئیں مگر ہم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا‘ ہم نے انہیں کیا صلہ دیا؟۔ملک میں کم از کم احسان فراموشی کا یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے‘ ہم اگر کام کرنے والوں کو ایوارڈ نہیں دے سکتے تو ہم کم از کم انہیں کام کرنے کی سزا تو نہ دیں‘ہم انہیں ذلیل تو نہ کریں‘ آپ یقین کریں ہم نے اگر یہ سلسلہ بند نہ کیا تووہ وقت بھی دور نہیں جب ہم ایوب خان کی طرح میاں شہباز شریف اور شاہد خاقان عباسی کی تصویریں بھی دیواروں پر لگائیں گے اور آنسوﺅں کے ساتھ کہیں گے ”تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد“لیکن وہ آنسو‘ وہ آہیں ہمارے کسی کام نہیں آئیں گی‘ کیوں؟ کیوں کہ ان کے بعد ہمارے ملک میں کوئی شخص کام کرنے کی غلطی نہیں کرے گا‘ لوگ قبروں کی مجاوری میں زندگی گزار دیں گے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں