منگل 19 نومبر 2019ء
منگل 19 نومبر 2019ء

ماسکو کا لائل پور

میں نے ماسکو کے طارق چودھری کا نام پہلی مرتبہ 2006ءمیں سنا تھا‘ شوکت عزیز وزیراعظم تھے‘ حکومت نے کراچی سٹیل ملز کی فروخت کا فیصلہ کیا‘پتا چلا ماسکو کے ایک پاکستانی بزنس مین سٹیل مل میں دل چسپی رکھتے ہیں‘ یہ بھی معلوم ہوا یہ بزنس مین جنرل پرویز مشرف کے دوست ہیں اور صدر انہیں نوازنا چاہتے ہیں‘ ہم لوگوں نے سن گن لی تو پتا چلا اس بزنس مین کا نام طارق چودھری ہے اور یہ فیصل آباد کے رہنے والے ہیں‘ بہرحال قصہ مختصر مارچ 2006ءمیں کراچی سٹیل مل نیلام ہو گئی لیکن جنرل پرویز مشرف کی کوشش کے باوجود یہ مل طارق چودھری کی بجائے روس کی کمپنی میگ نیتوگورسک آئرن اینڈ سٹیل ورکس نے سعودی اور پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ مل کر googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); خرید لی۔ ہم لوگ ابھی حیرت میں تھے کہ پتا چلا طارق چودھری کی کمپنی میگ نیتوگورسک آئرن اینڈ سٹیل ورکس سے 50 ملین ڈالر لے کر بولی سے اٹھ گئی تھی۔ایم کیو ایم ان دنوں مضبوط بھی تھی اور کراچی میں ان کا ہولڈ بھی تھا‘ ہمیں پتا چلا ایم کیو ایم کے سیکٹر کمانڈرز نے کراچی میں طارق چودھری کے دفتر پر قبضہ کر لیا ہے‘ یہ ان سے 50 ملین ڈالرز میں اپنا حصہ مانگ رہے ہیں‘ ہمیں پھر پتا چلا جنرل پرویز مشرف درمیان میں آ گئے ہیں‘ یہ دونوں پارٹیوں کے درمیان سودا کرا رہے ہیں‘ پھر پتا چلا جنرل پرویز مشرف درمیان سے نکل گئے ہیں اور یہ ایشو اب طارق چودھری اور ایم کیو ایم کے انور بھائی ”حل“کر رہے ہیں‘ ہمیں پھر پتا چلا روسی کمپنی سے 50 ملین ڈالر طارق چودھری نے نہیں بلکہ شوکت عزیز نے وصول کیے تھے اور آئی ایس آئی کے پاس اس کے باقاعدہ ثبوت موجود ہیں اور ہمیں پھر پتا چلا طارق چودھری نے سٹیل مل کی نیلامی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اس پر قانونی کارروائی شروع کر دی ہے‘ طارق چودھری کی پٹیشن آگے چل کر صدر پرویز مشرف اور افتخار محمد چودھری میں وجہ نزع بن گئی‘ جنرل مشرف نے افتخار محمد چودھری کو ایوان صدر بلا کر مستعفی ہونے کا حکم دیا اور پھر تاریخ نے اپنی آنکھوں سے عدلیہ بحالی کی وہ تحریک دیکھی جس کے آخر میں جنرل پرویز مشرف فارغ ہو گئے‘ ہم آج جب 2007ءکے واقعات کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں ان کے پیچھے طارق چودھری کا نام اور کردار دکھائی دیتا ہے‘ میں نے اس زمانے میں اس حیران کن کردار کے بارے میں تحقیق کی‘ معلوم ہوا طارق چودھری فیصل آباد سے تعلق رکھتے ہیں‘انتہائی غربت سے اٹھے ہیں۔سرد جنگ کے زمانے میں فیض احمد فیض کے سکالر شپ پر روس گئے‘ میٹالرجی میں انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی‘ سخت محنت کی‘ لوہے کا بزنس کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ارب پتی بن گئے‘ یہ اب روس کے کامیاب ترین بزنس مینوں میں شمار ہوتے ہیں‘ دھاتوں کے شعبے میں ان کا بڑا نام ہے‘ یہ پوری دنیا میں لوہا ایکسپورٹ کرتے ہیں‘ فیصل آباد کو آج بھی لائل پور کہتے ہیں اور انہوں نے اس شخص کو ایک ملین ڈالر انعام دینے کا اعلان کر رکھا ہے جو فیصل آباد کو دوبارہ لائل پور بنائے گا۔یہ فیصل آباد میں اپنے محلے میں ہزار بچوں کا چیریٹی سکول بھی چلا رہے ہیں اور پاکستان سے بے انتہا محبت کرتے ہیں چناں چہ یہ ملک کے لیے ملک کے ہر حکمران کے دوست بن جاتے ہیں‘ وغیرہ وغیرہ‘ میں نے 2007ءمیں ان سے رابطے کی کوشش کی لیکن کام یاب نہ ہو سکا‘ میں مئی 2019ءمیں ماسکو گیا‘ میں نے اس دوران بھی کوشش کی مگر ملاقات نہ ہو سکی تاہم ہمارا گروپ 26 اگست کو ماسکو پہنچا تو طارق چودھری نے خود میرے ساتھ رابطہ کر لیااور ان کے منیجر بابر مجھے لینے کے لیے ہوٹل آ گئے اور میں اپنے ٹور فیلو شفیق عباسی کے ساتھ طارق چودھری کے گھر پہنچ گیا۔یہ ماسکو کے مضافات میں بہت بڑے فارم ہاﺅس میں رہتے ہیں‘ گھر میں پاکستانی سبزیوں کی کیاریاں بھی بنا رکھی ہیں اور روسی سیب اور آلوچے کے درخت بھی لگا رکھے ہیں‘ یہ بہت محبت کے ساتھ ملے۔میں بات آگے بڑھانے سے پہلے آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں یہ عمران خان کے فین بھی ہیں‘ سپورٹر بھی اور فنانسر بھی۔میں نے طارق چودھری سے سوالوں کا سلسلہ شروع کیا اور یہ کھلے دل کے ساتھ جواب دیتے چلے گئے‘ میں نے ان سے پوچھا ”کیا آپ کی کمپنی واقعی 50 ملین ڈالر لے کر نیلامی سے نکل گئی تھی“۔ہنس کر جواب دیا ”ہرگز نہیں‘ ہم کراچی سٹیل مل خریدنا چاہتے تھے‘ میں نے چارٹر جہاز پر اپنا منیجر پاکستان بھجوایا تھا‘ وہ نیلامی میں قیمت بڑھاتا جا رہا تھا لیکن پھر کسی نے اسے باہر کوریڈور میں بلوایا اور کان میں سرگوشی کی تم اگر واپس روس جانا چاہتے ہو تو نیلامی سے اٹھ جاﺅ‘ وہ ڈر گیا اور نیلامی سے اٹھ گیا“ میں نے پوچھا ”کیا ایم کیو ایم نے واقعی آپ سے پچاس ملین ڈالر مانگے تھے“ وہ بولے ”یہ درست ہے ایم کیو ایم کے لوگوں نے کراچی میں ہمارے دفتر آنا جانا شروع کر دیاتھا‘ وہ سمجھتے تھے ہم نے روسی کمپنی سے 50 ملین ڈالر لیے ہیں‘ میں نے جنرل مشرف کے ذریعے انہیں تسلی دی مگر وہ قائل نہیں ہوئے لیکن جب پارٹی نے خود تفتیش کی تو ہم بے گناہ ثابت ہو گئے جس کے بعد ان کی توجہ شوکت عزیز پر چلی گئی“۔میں نے پوچھا” کیا شوکت عزیز نے رقم لی تھی“ وہ ہنس کر بولے ”اگر لی بھی تھی تو وہ یقینا واپس ہو گئی ہو گی کیوں کہ سپریم کورٹ نے ڈیل کینسل کر دی تھی اور روسی کمپنی کو سٹیل مل نہیں ملی تھی“ میں نے پوچھا ”آپ نے ڈیل کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن کیوں کی؟“ وہ ہنس کر بولے ”میں جنرل پرویز مشرف کے پاس گیا تھا اور میں نے ان سے کہا تھا‘ حکومت نے 21.68ارب روپے میں سٹیل مل بیچ دی‘ میں آج بھی دگنے پیسے دینے کے لیے تیار ہوں‘ جنرل مشرف نے نیلامی کے کاغذات منگوا کر دیکھے اور پھر مجھ سے کہا‘ میں اب کچھ نہیں کر سکوں گا‘ آپ سپریم کورٹ چلے جائیں۔میں جنرل مشرف کے مشورے پر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے ملا‘ ان کی ہدایت پر پٹیشن تیار کی اور یوں کیس شروع ہو گیا“ میں نے پوچھا ”آپ کی چیف جسٹس سے میٹنگ کس نے طے کی تھی“ وہ ہنس کر بولے ”جنرل پرویز مشرف کے سٹاف نے“ میں نے پوچھا ”کیا آپ نے جنرل مشرف کی ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں لندن میں فلیٹ خرید کر دیا تھا“ وہ ہنس کر بولے ”ہرگز نہیں تاہم یہ میرے دوست ہیں‘ میں نے ان کی سالگرہ پر چارٹر جہاز بھجوا کر انہیں سینٹ پیٹرز برگ بلوایا تھا اور ان کی سالگرہ کا فنکشن کیا تھا۔میں آج بھی ان کی خدمت کے لیے تیار ہوں لیکن مجھ سے جنرل مشرف نے کبھی کوئی رقم لی اور نہ میں نے دی“میں نے پوچھا ”کیا آپ عمران خان کے فنانسر ہیں“ وہ دوبارہ ہنس کر بولے ”یہ میرے دوست ہیں اور دوستوں کے لیے میری جان بھی حاضر ہے“ میں نے پوچھا ”کیا آپ آج بھی سٹیل مل خریدنے کے لیے تیار ہیں“ وہ بولے ”کراچی سٹیل مل قرضوں میں جکڑی ہوئی ہے‘ میں کیا دنیا کا کوئی بھی بزنس مین اتنے بھاری قرضوں کے ساتھ یہ سٹیل مل نہیں خریدے گا“ ۔میں نے پوچھا ”کیا سٹیل مل بحال ہو سکتی ہے“ وہ یقین کے ساتھ بولے ”ہاں سو فیصد لیکن اس کے لیے ہمیں چند نکتے سمجھنا ہوں گے‘ پہلا نکتہ مل کا ماڈل ہے‘یہ مل 1973ءمیں بننا شروع ہوئی لیکن اس میں 1958ءکی ٹیکنالوجی استعمال ہوئی‘مل کی ٹیکنالوجی 60 سال پرانی ہے‘ آج سٹیل ٹیکنالوجی بہت آگے جا چکی ہے لہٰذا آپ یہ پلے باندھ لیں آپ پرانی ٹیکنالوجی سے مل نہیں چلا سکیں گے‘ مل کو کراچی شہر کے برابر بجلی چاہیے اور آپ یہ بھی فراہم نہیں کر سکیں گے چناں چہ آپ کو بیلٹ کا پلانٹ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کر دینا چاہیے۔پوری دنیا میں بیلٹ دستیاب ہے‘ آپ یہ امپورٹ کریں اور باقی مل چلا دیں‘ یہ منافع میں چلی جائے گی‘ پاکستان میں اس وقت لوہے کی سالانہ طلب15 ملین ٹن ہے‘ سٹیل مل نہ چلنے کی وجہ سے پاکستان ہر سال سات آٹھ ملین ٹن لوہا درآمد کرتا ہے‘ یہ سیدھا سادا نقصان ہے‘ سٹیل مل چل جائے تو ملک بحران سے نکل آئے گا“ میں نے پوچھا ”کیا آپ نے یہ نقطہ عمران خان کو بتایا“ طارق چودھری ہنس کر بولے ”ہاں بڑی تفصیل سے سمجھایا لیکن حکومت جب تک شریف فیملی کے فلیٹس سے باہر نہیں آئے گی یہ سٹیل مل جیسے ایشوز ہینڈل نہیں کر سکے گی“۔میں نے پوچھا ”کیا فلیٹس کا ایشو ختم ہو جائے گا“ وہ قہقہہ لگا کر بولے ”میرا نہیں خیال‘ میں نے عمران خان کو بتایا لندن میں جہاں میاں نواز شریف کے تین فلیٹس ہیں میرے وہاں 54 فلیٹس ہیں‘ حکومت ان تین فلیٹس کی جتنی قیمت بتا رہی ہے یہ میرے 54 فلیٹس کی نہیں بنتی تاہم یہ درست ہے یہ فلیٹس قانونی طریقے سے نہیں خریدے گئے تھے اور شریف فیملی پوری زندگی ان کی منی ٹریل نہیں دے سکے گی لیکن یہ بھی حقیقت ہے حکومت بھی ایڑی چوٹی کا زور لگا کر فلیٹس کو حرام کی کمائی ثابت نہیں کر سکے گی چناں چہ حکومت کو فلیٹس اور شریف فیملی میں الجھا دینا ملکی وسائل‘ توانائی اور وقت کا خوف ناک زیاں ہے۔میں سمجھتا ہوں حکومت کو یہ ایشو نبٹا کرسٹیل مل جیسے اصل ایشوز کی طرف آجانا چاہیے تاکہ ملک چل سکے“ وہ خاموش ہو گئے‘ میں نے اس کے بعد ان سے ذاتی زندگی اور حیران کن کام یابی کے بارے میں پوچھنا شروع کر دیا‘ وہ ہنس کر بولے ”یہ سب اللہ کا کرم ہے‘ میں لائل پور کی جن گلیوں سے نکل کر آیا ہوں وہاں سے اللہ ہی کسی کونکال سکتا ہے‘ یہ کسی بندے کے بس کی بات نہیں “۔ہم رات دیر تک طارق چودھری کے پاس رہے‘ مجھے ہر منٹ بعد محسوس ہوتا تھا لائل پور1977ءمیں فیصل آباد بنا دیا گیا لیکن طارق چودھری کا لائل پور آج بھی ان کی ذات میں موجود ہے اور یہ ان کے خون میں نسلوں تک قائم رہے گا‘ پاکستان کا لائل پور ختم ہو گیا لیکن ماسکو میں لائل پور آج بھی موجود ہے اور جب تک طارق چودھری قائم ہے ماسکو کا لائل پور بھی سلامت رہے گا۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں