اتوار 17 نومبر 2019ء
اتوار 17 نومبر 2019ء

کشمیرکی چابی سلامتی کونسل میں نہیں

راجہ فاروق حیدر اس وقت آزاد کشمیر کے وزیراعظم ہیں‘ میری ان سے پہلی ملاقات 2010ء میں ہوئی تھی‘ پاکستان میں آصف علی زرداری صدر تھے‘صدر نے 5 جنوری 2010ء کو آزادکشمیراسمبلی سے خطاب کیا اور اسمبلی میں کھڑے ہو کر کشمیر کھپے کا نعرہ لگایا‘مجھے کسی دوست نے بتایا‘کشمیری زبان میں کھپے ایک ”خوف ناک“لفظ ہے‘ میں یہ لفظ لے کر راجہ فاروق حیدر کے پاس چلا گیا‘ میں نے انہیں ہاتھ ملاتے ہوئے غلطی سے سردار کہہ دیا۔انہوں نے قہقہہ لگایا اور میری تصحیح کرتے ہوئے فرمایا”آزاد کشمیر کا ہر لیڈر سردار نہیں ہوتا‘ ان میں سے کچھ راجے بھی ہوتے ہیں“ میں نے بھی قہقہہ لگایا اور ان سے عرض کیا‘جس طرح بلوچستان کی نوے فیصد آبادی میر صاحب‘ پورا کے پی کے googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); خان صاحب‘ پنجاب کاہر تیسرا شخص چودھری صاحب اور صوبہ سندھ کا ہر شخص سائیں ہوتا ہے بالکل اسی طرح ہمارا دماغ یہ تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا کہ کوئی شخص آزاد کشمیر کالیڈر ہو اور وہ سردار نہ ہو یہ کیسے ممکن ہے؟ میں نے ان سے پوچھا ”کیا کشمیری زبان میں کھپے کا لفظ ہے“ راجہ فاروق حیدر فوراً شرما گئے‘ میں نے ان سے اگلا سوال پوچھا ”کشمیری میں کھپے کا مطلب کیا ہوتا ہے؟“ وہ مزید شرما گئے‘ میں نے تیسرا سوال داغ دیا ”صدر آصف علی زرداری نے کشمیر اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کھپے کا نعرہ لگایا‘کیا آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں“ راجہ صاحب نے شرماتے ہوئے ہاں میں سر ہلا دیا۔ میں نے پوچھا ”کشمیر کھپے کا مطلب کیا بنتا ہے؟“ وہ شرماتے شرماتے ہنسے اور موضوع تبدیل کرنے کیلئے مجھ سے پوچھا ”آپ گرین ٹی لیں گے‘ چائے یا کافی“ میں نے ”چائے کھپے“ کا نعرہ لگا دیا اور راجہ صاحب کا چہرہ لال ہو گیا۔ مجھے آج بھی یاد ہے راجہ فاروق حیدر نے اس ملاقات کے دوران بھارت کا ایک واقعہ سنایا تھا‘ ان کا کہنا تھا وہ چند برس پہلے کسی کانفرنس میں شرکت کیلئے بھارت گئے‘ ہوٹل کی لابی میں انہیں ایک ہندو عورت دکھائی دی۔خاتون نے ماتھے پر بندیا لگائی ہوئی تھی‘ وہ سیدھی ان کی طرف آئی اوران سے مخاطب ہو کر بولی ”آپ پاکستان سے آئے ہیں“ راجہ صاحب نے ہاں میں سر ہلا دیا‘ وہ بولی ”آپ پھر واپس جا کر پاکستانیوں کو بتائیے گا آپ اگر ہندوستان کے مسلمانوں کو خوش اور محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں توآپ کبھی پاکستان کو کمزور نہ ہونے دیجیے گا“ خاتون کا کہنا تھا ”ہندوستان کے مسلمانوں کی سلامتی مضبوط پاکستان میں مضمرہے‘ اگر پاکستان کمزور ہو گیا تو ہندوستان کی ہندو آبادی بیس کروڑ مسلمانوں کو ہڑپ کر جائے گی“۔یہ واقعہ سنانے کے بعد راجہ فاروق حیدر کا کہنا تھا ”وہ خاتون مسلمان تھی‘ اس نے خود کو ہندو معاشرے میں محفوظ رکھنے کے لیے ماتھے پر بندیا لگا رکھی تھی“ وہ رکے اور پھر کہا”میرا بس چلے تو میں پاکستان کے خلاف بات کرنے والے تمام لوگوں کو ایک ایک بار ہندوستان کا دورہ کروا دوں کیونکہ جب تک یہ لوگ ہندوستان نہیں جائیں گے انہیں اس وقت تک پاکستان کی قدر و قیمت کا احساس نہیں ہوگا‘ ہم نے اگر آزادی کی قدروقیمت کااندازہ لگاناہے تو پھر ہمیں چاہیے ہم ہندوستان جائیں اور وہاں آباد مسلمانوں کی حالت زار کا مشاہدہ کریں۔ہندوستان کے مسلمان زندہ رہنے کیلئے ماتھے پر تلک لگانے پر مجبور ہیں جبکہ مسلمان عورتیں بندیا لگا کر گھروں سے باہر نکلتی ہیں تا کہ یہ ہندو معاشرے کی ”ڈس کریمینیشن“ سے محفوظ رہ سکیں“ میں نے اس وقت ان سے پوچھا تھا ”کیا آپ آزاد کشمیر کے حالات سے مطمئن ہیں؟“ راجہ فاروق حیدر کا کہنا تھا”کشمیر اور پاکستان کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہے‘ کشمیر پاکستان کی شہ رگ بھی ہے چناں چہ آپ خود اندازہ لگا لیجیے اگر پاکستان کے حالات خراب ہوں گے تو شہ رگ کیسے مطمئن رہ سکے گی؟۔کشمیر سے پاکستان میں پانی اور ہوا جاتی ہے اور پاکستان سے سیاسی حالات واپس لاتی ہے‘ آپ خود فیصلہ کیجیے جب پاکستان میں بحران ہوں گے تو کیا یہ تپش‘ یہ بحران میدانوں سے اٹھ کر پہاڑوں کی طرف نہیں آئیں گے؟ اور جب میدانوں کی تپش اور بحران پہاڑوں کی طرف آتے ہیں تو پہاڑ پرسکون نہیں رہ سکتے چناں چہ ہم لوگ پاکستان کے سیاسی حالات سے بے انتہا متاثر ہو تے ہیں“ راجہ فاروق حیدر کا کہنا تھا ”پاکستان میں جب بھی کوئی سیاسی تبدیلی آتی ہے تواس کا سب سے زیادہ نقصان کشمیریوں کو ہوتاہے‘ کشمیر کے اندر گڑبڑ شروع ہو جاتی ہے‘ ہم بے انتہا پریشان ہو جاتے ہیں“۔مجھے راجہ فاروق حیدر کی بات درست محسوس ہوئی‘ کشمیر پاکستان کی بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے‘ ہمارے بھارت کے ساتھ تمام تنازعات کی وجہ کشمیر ہے‘ ہم آج کشمیر پر اپنے موقف سے پیچھے ہٹ جائیں تو بھارت ہمارا اچھا ہمسایہ بن جائے گا‘ ہمارے بھارت کے ساتھ تمام تنازعات حل ہو جائیں گے لیکن ہم کشمیر سے پیچھے ہٹے ہیں اور نہ ہی ہم ہٹیں گے‘ کشمیر پاکستان کے بچے بچے کے خون کا حصہ ہے‘ ہماری حکومتیں ملک غلام محمد کے دور سے لے کرمیاں نواز شریف تک کشمیر کے ایشو کو کبھی بھارت اور کبھی یورپی اور امریکی زاویے کے مطابق حل کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیںلیکن عوام ہمیشہ راستے میں سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے چناں چہ آج تک کوئی حکومت کوشش کے باوجود کشمیر کو رول بیک نہیں کر سکی لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے ہم نے انتظامی لحاظ سے کشمیر کو وہ اہمیت نہیں دی جو ہمیں دینا چاہیے تھی۔ پورے آزاد کشمیر کو آج بھی ایک سیکشن افسر ڈیل کرتا ہے اور آزاد کشمیر کے صدر ہوں یا وزیراعظم یہ سب اس سیکشن افسر کے ماتحت ہوتے ہیں‘ ہم اگر آزاد کشمیر کو صوبے کے برابر مراعات اور سٹیٹس دے دیتے تو کشمیر حکومت کی کارکردگی میں اضافہ ہوجاتا‘ یہ آج بہتر پرفارم کر رہی ہوتی۔پاکستان کو چاہیے تھایہ وزرائے اعلیٰ کے ہر اجلاس میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم کوشریک کرتا‘ ہم کشمیری وزیراعظم کو چار وزرائے اعلیٰ کے ساتھ بٹھاتے تاکہ کشمیریوں کو بھی پاکستانی ہونے کا احساس ہوتا‘ راجہ فاروق حیدر کی شہرت اچھی ہے‘ ان پر کرپشن کا بھی کوئی چارج نہیں‘ یہ اگر اچھی شہرت کے حامل ہیں تو میرا خیال ہے وفاقی حکومت کو اس شہرت کا فائدہ اٹھانا چاہیے تھا‘ حکومت کو چاہیے تھا یہ آزاد کشمیر میں گڈ گورننس کی بنیاد رکھتی۔آزاد کشمیر کے تمام اضلاع میں ترجیحی بنیادوں پرکام کیے جاتے‘ 8اکتوبر 2005ء کے زلزلے کو آج14 سال ہو چکے ہیں لیکن زلزلے کے آثار اور تباہی ابھی تک باقی ہے‘ آزاد کشمیر میں بے شمار ایسے خاندان موجود ہیں جن کی بحالی کا کام آج بھی مکمل نہیں ہوا‘ وفاقی حکومت آزاد کشمیر حکومت کے ساتھ مل کر یہ مسئلہ بھی حل کر سکتی تھی‘ آزاد کشمیر میں پن بجلی کے سینکڑوں چھوٹے چھوٹے یونٹ لگ سکتے ہیں‘ یہ یونٹ مقامی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے کافی ہوتے۔حکومت کو ”وارفٹنگ“ پر یہ کام بھی کرناچاہیے تھا‘ دنیا کے بے شمار ممالک نے زلزلے کے بعد کشمیر کیلئے فنڈز قائم کیے تھے‘ دنیا نے کشمیریوں کو اربوں ڈالر امداد بھی دی تھی‘یہ امداد اور یہ فنڈز ابھی تک استعمال نہیں ہوئے‘ حکومت اگر ان فنڈز کو ٹھیک طریقے سے استعمال کر لیتی تو پورے آزاد کشمیر میں سڑکیں بھی بن جاتیں‘ سکول بھی اور ہسپتال بھی۔ کشمیر کا شمار دنیا کے دس خوبصورت ترین خطوں میں ہوتا ہے‘ آپ مظفرآباد سے تھوڑا سا باہر نکل کر دیکھیں توآپ کو سوئٹزرلینڈ کی خوبصورتیاں شرماتی دکھائی دیں گی۔میں چار پانچ سال پہلے پیر چناسی کی پہاڑی پر گیا تھا‘ یہ دنیا کا خوبصورت ترین مقام تھا‘ مجھے آج تک پیر چناسی کے جنگلوں کی مہک آتی ہے اور میں چند لمحوں کیلئے اس مہک میں گم ہو جاتا ہوں۔آپ نیلم ویلی میں جا کر دیکھیں آپ کو قدرت کی صناعی حیران کر دے گی۔ دنیا کے اسی فیصد لوگ ایسے نظاروں اور ایسی جگہوں کو ترستے رہتے ہیں‘ ہماری وفاقی حکومت اگر آزاد کشمیر حکومت کے ساتھ مل کر کوئی ٹھوس سیاحتی پالیسی بنالیتی تو ہم دنیا بھر کے سیاحوں کو کشمیر لا سکتے تھے۔پاکستان کے اپنے شہری بھی کشمیر کی سیاحت سے لطف اٹھا سکتے تھے اور اس سیاحت سے آزاد کشمیر کی ساری سماجی اور معاشی حالت تبدیل ہوسکتی تھی۔ وفاقی حکومت کو آزاد کشمیر کے عوام کو سامان خورونوش میں بھی خصوصی رعایت اور ٹیکس چھوٹ دینی چاہیے تھی کیونکہ اگر آزاد کشمیر کا شہری پاکستان سے مطمئن ہوتا‘ اس کی عزت نفس یہاں محفوظ ہو تی اور یہ وفاقی حکومت کے رویے پرمسرور ہوتا تو اس کی خوشی کی مہک پوری دنیا تک جاتی اوریوں کشمیر کی منزل قریب سے قریب تر ہوتی جاتی لیکن افسوس ہم نے آج تک کشمیر کو شہ رگ کہنے کے باوجود فاصلے پر رکھا۔ہمیں آج یہ حقیقت بھی ماننا پڑے گی ہم نے ہر دور میں کشمیری قیادت کو سیاسی جماعتوں کے فریم میں رکھ کر دیکھا‘ عمران خان بھی راجہ فاروق حیدر کو میاں نواز شریف کا سپاہی سمجھتے ہیں‘ یہ ایک سال میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم کو صرف تین بار ملے‘ ہم نے آزاد کشمیر کو جان بوجھ کر پسماندہ بھی رکھااور یہ ہماری وہ حرکتیں ہیں بھارت نے جن کو مقبوضہ کشمیر میں پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا‘ یہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو آزاد کشمیر کی پسماندگی دکھاتا تھا اور ان سے کہتا تھا ”کیا تم لوگ بھی آزادی لے کر اس طرح غلام بننا چاہتے ہو“۔مقبوضہ کشمیر کے عوام نے بھارت کے اس پروپیگنڈے کو ہر دور میں مسترد کیا‘ یہ شہید ہوتے چلے گئے لیکن ”کشمیر بنے گا پاکستان“ کا نعرہ لگانا بند نہ کیا‘اللہ تعالیٰ نے نریندر مودی کی حماقت کے ذریعے پوری دنیا کو ایک بار پھر کشمیر کی طرف متوجہ کر دیا‘ ہم پاکستانیوں کا فوکس بھی اس وقت کشمیر ہے‘ ہم کشمیر کے لیے انڈیا سے لڑیں گے لیکن اس جنگ سے پہلے ہمیں یہ فیصلہ بھی کرنا ہوگا ہم اب کشمیریوں کو ان کا حق اور عزت دونوں دیں گے‘ وزیراعظم عمران خان آزاد کشمیر کی ساری قیادت کو بلوائیں۔آزاد کشمیر کے مسئلے سنیں اور ایک حکم کے ذریعے یہ سارے مسئلے حل کر دیں تاکہ کم از کم آزاد کشمیر اور پاکستان کے درمیان غلط فہمیوں کی ساری دیواریں گر سکیں‘ ہم کشمیریوں کے حق کیلئے پوری دنیا کو قائل کر رہے ہیں‘ مجھے یقین ہے ہم دنیا کو قائل بھی کر لیں گے لیکن دنیا کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کے شہریوں کا مطمئن ہونا بھی ضروری ہے‘ ہمیں اپنی شہ رگ کو شہ رگ جتنی عزت دینی ہو گی‘ ہم کشمیریوں کو یہ عزت دیے بغیر یہ مسئلہ حل نہیں کر سکیں گے‘ میں سمجھتا ہوں کشمیر کی چابی سلامتی کونسل میں نہیں راجہ فاروق حیدر کی جیب میں ہے‘ راجہ فاروق حیدر سے ملیں‘ ان کی جیب ٹٹولیں‘ یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں