بدھ 18  ستمبر 2019ء
بدھ 18  ستمبر 2019ء

یہ جنت وہ جنت

وہ بولے ”میں مسجد کی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا“ ہم فٹ پاتھ سے نیچے اتر آئے‘ گھاس ابھی گیلی تھی‘ شاید رات کی بارش کا اثر باقی تھا یا پھر یہ ساون کا گیلا پن تھا‘ ہمارے جوتے چند لمحوں میں بھیگ گئے‘ میرا دوست مجھ سے دس سال بڑا ہے‘ میں پچاس میں داخل ہو گیا ہوں اور یہ ساٹھ کی سرحد پر کھڑا ہے‘ یہ کم پڑھا لکھا‘ پریکٹیکل انسان ہے‘ دنیا میں کام کرنے کے دو طریقے ہوتے ہیں‘ آپ سیکھ کر کام کریں یا پھر کام کر کے سیکھیں‘ یہ دوسرے مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا ہے۔یہ کر کے سیکھتا رہا اور کام یاب ہوتا رہا‘ میں نے اس سے متاثر ہو کر اپنے بیٹوں کو بھی ”کر کے googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); سیکھیں“ کی ٹریننگ دی اور یہ پڑھائی مکمل ہونے سے پہلے خود مختار اور خوش حال ہو چکے تھے‘ میرے دوست کی دوسری خوبی ارادہ ہے‘یہ جب ٹھان لیتا ہے تو یہ اسی وقت اٹھ کر اس پر کام شروع کر دیتا ہے اور جب تک سیکھ نہیں لیتا یہ پیچھے نہیں ہٹتا۔ہم گھاس سے واپس فٹ پاتھ پر آگئے‘ وہ بولے ”میں صبح نماز کے بعد مسجد کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا‘ نمازی گھروں کوجا چکے تھے۔میں مسجد میں اکیلا تھا‘ میں نے دائیں سے بائیں دیکھا‘ سورج کی کرنیں آہستہ آہستہ اندر داخل ہو رہی تھیں‘ میں نے کرنوں کا پیچھا کرنا شروع کر دیا تو اچانک میرے ذہن میں جھماکا ہوا اور ذہن کی گرہیں کھلنے لگیں‘ اللہ کا ایک راز میری سمجھ میں آ گیا‘ میں نے سوچا میں آج کی واک میں یہ تم سے ضرور پوچھوں گا“ میں نے قہقہہ لگایا اور کہا ”بھائی آپ مجھے عقل مند اور پڑھا لکھا سمجھتے ہیں‘ آپ سے بڑا بے وقوف کون ہو گا“ وہ بھی ہنسے اور بولے ”تم پہلے بات سن لو‘ ہم یہ فیصلہ بعد میں کریں گے“ میں خاموش ہو گیا‘ ہم مارگلا روڈ سے نیچے اتر آئے‘ وہ بولے ”اللہ تعالیٰ ایمان والوں سے کہتا ہے تم سچ بولو‘ انصاف کرو‘ انسانی حقوق کا خیال رکھو‘ جانوروں کو بھی خوراک‘ پانی اور علاج دو‘ غیبت نہ کرو‘ چغل خوری سے بچو‘ کسی کا مذاق نہ اڑاؤ‘ گورے کو کالے اور کالے کو گورے کے برابر سمجھو۔وعدہ پورا کرو‘ وقت کی پابندی کرو‘ چیز کا نقص پہلے بتاؤ اور فروخت بعد میں کرو‘ بچوں کے ساتھ پیار کرو‘ غریبوں کا آسرا بنو‘ بوڑھوں اور معذوروں کا خیال رکھو‘ تمہارے دائیں بائیں کوئی شخص بھوکا نہیں سونا چاہیے‘ لوگوں کو گھروں میں آباد کرو‘ پانی گندا نہ کرو‘ درخت نہ کاٹو‘ خوراک ضائع نہ کرو‘ اپنے فالتو کپڑے‘ جوتے اور فرنیچر ضرورت مندوں کو دے دو‘ بیماروں کا علاج بھی کرو اور تیمار داری بھی‘ ہمسائے کو پریشان نہ کرو‘ سواری راستے میں نہ باندھو (رانگ پارکنگ)‘ لوگوں کو ٹھیک مشورہ دو‘ انصاف کرو۔اپنے بھائی کے لیے بھی وہ پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو‘ لوگوں کے آباد گھر خراب نہ کرو‘ کسی کی پرائیویٹ لائف کی ٹوہ نہ لگاؤ‘ جاسوسی نہ کرو‘ لوگوں کے راز نہ کھوجو‘ چادر اور چاردیواری کا احترام کرو‘ دوسروں کے گناہوں پر پردہ ڈالو‘ کھانا کم کھاؤ‘آہستہ کھانا کھاؤ‘ صحت کا خیال رکھو‘ ورزش کرو‘ ماحول کو صاف ستھرا رکھو‘ چوری نہ کرو‘ زنا سے بچو‘ قتل نہ کرو‘ گواہی نہ چھپاؤ‘ دوسروں کے مال پر نظر نہ رکھو‘ ملاوٹ نہ کرو‘ صبح جلدی اٹھو‘ بازاروں میں دیر تک نہ پھرو۔شوروغوغا نہ کرو اور لوگوں کے ساتھ عزت اور تمیز کے ساتھ بات کرو‘ اونچا نہ بولو‘ کسی کے کان میں نہ جھکو‘ کسی کے قد‘ کاٹھ‘ جسمانی نقص اور حلیے کا مذاق نہ اڑاؤ‘ دولت‘ حسن اور مرتبے کا غرور نہ کرو‘ تکبر سے بچو اور ظلم نہ کرو‘ اللہ کے تمام احکامات ان کے درمیان ہیں‘ آپ مذہب کی کوئی کتاب کھول لیں‘ آپ کو اللہ تعالیٰ جرم‘ گناہ اور غلطی سے بچنے کا حکم دیتا ملے گا‘ یہ اخلاقیات کو عبادت سے زیادہ اہمیت دیتا نظر آئے گا“۔وہ رکے اور لمبی سانس لی‘ ہم فٹ پاتھ پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے‘ شام رات میں ڈھل رہی تھی اور رات کی روشنیاں بیدار ہو رہی تھیں‘ میں غور سے ان کی بات سن رہا تھا‘ وہ تھوڑی دیر رک کر بولے ”اللہ تعالیٰ ہم سے بار بار ان احکامات کے بدلے جنت کا وعدہ کرتا ہے‘ یہ کہتا ہے تم اگر خود کو جنت کاحق دار بنانا چاہتے ہو تو پھر تمہیں یہ کرنا ہوگا‘ وہ یہ بھی بتاتا ہے تمہاری کون سی غلطی‘ کوتاہی‘ گناہ اور جرم تمہاری کتنی نیکیاں برباد کر دیتا ہے لہٰذا تم ان سے بچتے رہو“ ۔وہ رکے اور پھر بولے ”ہم اللہ تعالیٰ سے جنت کے بارے میں پوچھتے ہیں تو یہ ہمیں بتاتا ہے جنت میں کیا کیا ہو گا‘ جنت میں خوراک کی فراوانی ہو گی‘ دودھ اور شہد کی نہریں ہوں گی‘ پھل دار درخت ہوں گے‘ میوے ہوں گے‘ دور دور تک سایہ دار درخت ہوں گے‘ ٹھنڈے چشمے اور گرم ندیاں ہوں گی‘ چہچہاتے پرندے ہوں گے‘ بادلوں کے سائے ہوں گے‘ خوشبوئیں ہوں گی‘ لمبی زندگی اور خوشیاں ہوں گی‘ حوریں ہوں گی اور شراب طہور ہو گی‘ مذہبی کتابیں بتاتی ہیں جنت ایک ایسی جگہ ہو گی جہاں غربت‘ بیماری‘ طبقاتی تقسیم‘ بڑھاپا‘ پریشانی‘ مسائل اور مصائب نہیں ہوں گے‘ وہاں کوئی کسی کے ساتھ نہیں الجھے گا۔گھروں کے درمیان فاصلہ ہو گا تاکہ کسی جنتی کی پرائیویٹ لائف ڈسٹرب نہ ہو‘ اللہ تعالیٰ کے انعامات ہر وقت برستے رہیں گے‘ قدرت روز اپنے جلوے دکھائے گی‘ آمد ورفت اور نشست و برخاست کا بھی کوئی ایشو نہیں ہو گا اور جنت میں گورے اور کالے اور اونچے اور نیچے کا فرق بھی مٹ جائے گا“۔ وہ رکے اور آہستہ آواز میں بولے ”میں اگر غلط ہوں تو اللہ مجھے معاف کر دے لیکن مجھے مسجد کی دیوار کے ساتھ بیٹھے بیٹھے احساس ہوا اللہ تعالیٰ نے جو احکامات انسان کے لیے اتارے تھے وہ تمام یورپ اور ترقی یافتہ ملکوں میں موجود ہیں۔آپ پہلی صف کے ملکوں کی فہرست بنائیں اور دیکھیں آپ کو وہاں اللہ کا ہر وہ حکم عملی شکل میں ملے گا جو اللہ نے اہل ایمان کے لیے اتارا‘ آپ کو یہ لوگ جھوٹ‘ ملاوٹ‘ غیبت‘ وعدہ خلافی‘ شور شرابے‘ جرم اور دوسروں کی پرائیویٹ زندگی سے پرہیز کرتے ملیں گے‘ آپ کو وہاں ڈسپلن بھی ملے گا‘ امن بھی‘ آشتی بھی‘ انصاف بھی‘ رواداری بھی‘ برابری بھی‘ سچائی بھی‘ ماحول دوستی بھی اور ترتیب بھی‘ آپ یورپ میں اپنی مرضی سے درخت لگا تو سکتے ہیں لیکن کاٹ نہیں سکتے۔دریا ڈینوب یورپ کا دوسرابڑا دریا ہے‘ یہ 10ملکوں سے گزرتا ہے‘ یورپ کا کوئی ملک اس میں سیوریج کا پانی نہیں گراتا‘ آسٹریا اپنے ملک کا پانی صاف کرتا ہے اور پھر یہ صاف پانی دریا ڈینوب میں ڈالتا ہے‘ یہ ہر سال اس عمل پر دو بلین ڈالر خرچ کرتا ہے‘ آپ کو جتنے جنگل یورپ میں ملتے ہیں‘ آپ کو اتنے اسلامی دنیا میں مجموعی طور پر نہیں ملیں گے‘ اللہ تعالیٰ نے علم‘ تحقیق اور عقل کا حکم دیا تھا‘ آپ کو مغرب میں عقل بھی ملے گی‘ تحقیق بھی اور علم بھی۔امریکا کے ایک شہر بوسٹن میں سال میں جتنے مقالے لکھے جاتے ہیں اسلامی دنیا میں اتنے مجموعی طور پر تحریر نہیں ہوتے‘ یہ لوگ چاند اور مریخ سے توانائی زمین پر لانا چاہتے ہیں‘ یہ خون کے ایک قطرے سے آپ کو بتا دیتے ہیں آپ کو کس عمر میں کون سی بیماری ہو گی اور آپ اور آپ کے بچوں کی عمریں کیا ہوں گی‘ آپ اگر عملی طور پر دیکھیں تو آپ کو یورپ میں شہد اور دودھ کی نہریں بھی ملتی ہیں‘ آپ کو وہاں ہر شخص روز شہد اور دودھ استعمال کرتا ملے گا۔آپ دیہات میں بھی چلے جائیں آپ کو وہاں بھی وافر مقدار میں دودھ‘ شہد‘ پھل‘ گوشت اور خوراک ملے گی اور آپ اگر برا نہ منائیں تو آپ کو یورپ کی عورتوں میں حوروں کاحسن اور فراخ دلی بھی ملتی ہے۔یہ لوگ غربت اور بیماری پر بھی قابو پا رہے ہیں اور ان کی اوسط عمر بھی ہم سے زیادہ ہے چناں چہ آپ اگر جنت کو زمین پر تلاش کریں تو یہ آپ کو یورپ میں ملے گی“۔ہم دوبارہ گھاس پر آ گئے‘ گھاس کا یہ ٹکڑا صاف تھا‘ ہم اس پر چلتے گئے۔وہ رک کر بولے ”میں اگر غلط ہوں تو اللہ معاف کرے‘ مجھے مسجد میں بیٹھے بیٹھے محسوس ہوا اللہ تعالیٰ نے شاید ہمیں دو جنتوں کا راستہ دکھایا ہو‘ زمین کی جنت اور آسمانوں کی جنت‘ زمین کی جنت آسمانوں کی جنت کا پرومو‘ اس کا پری فیس ہو سکتا ہے‘ اللہ تعالیٰ نے شاید یہ فرمایا ہو تم یہ کر لو زمینی جنت بھی تمہاری ہو جائے گی اور آسمانی بھی‘ گوروں نے اللہ تعالیٰ کی بات مان لی چناں چہ ان کی زندگی جنت ہو گئی‘ یہ دنیا ہی میں وہ تمام سہولتیں انجواء کرنے لگے جن کا وعدہ اللہ نے ہم سے آسمانوں پر کیا تھا جب کہ ہم اللہ کی حکم عدولی کر کے دنیا اور آخرت دونوں جنتوں سے محروم ہو رہے ہیں۔ہم دنیا اور آخرت دونوں سے راندہ درگاہ ہو رہے ہیں“ وہ رکے اور آہستہ سے بولے ”میں عالم نہیں ہوں لیکن مجھے محسوس ہوتا ہے انسان اگر اللہ کے احکامات پر عمل کر لے تو اس کے پاؤں کے نیچے موجود زمین کا ٹکڑا جنت بن جاتا ہے‘ یہ دنیا میں شہد‘ دودھ‘ پھل‘ سائے اور حوروں کا حق دارہو جاتا ہے اور یہ اگر اللہ کا حکم نہ مانے تو یہ یہاں اور وہاں دونوں جنتوں سے محروم ہو جاتا ہے“ وہ خاموش ہو گئے‘ میں نے کھانس کر گلا صاف کیا اور آہستہ سے کہا ”یہ بات صرف ملکوں اور معاشروں تک محدود نہیں‘ ہم لوگ اگر انفرادی سطح پر بھی اللہ کے احکامات مان لیں تو ہماری زندگی جنت بن جاتی ہے۔میں نے اپنی زندگی میں آج تک کسی ایسے شخص کو مفلوک الحال‘ خوراک کی کمی‘ بے سکونی‘ بیماری اور بے عزتی کا شکار نہیں دیکھا جو سچ بولتاہو‘ وقت اور وعدے کی پابندی کرتاہو اور انصاف اور صلہ رحمی کرتا ہو‘ جو عاجز ہو‘ شائستہ ہو‘ مہذب ہو‘ علم کا متلاشی ہو اور انسانوں کا ہمدرد ہو‘ ہم میں سے جو شخص اللہ کے احکامات کی پابندی کر لیتا ہے وہ دنیا اور آخرت دونوں کا جنتی ہو جاتا ہے‘ اللہ تعالیٰ اس کی زمینی بیوی کو حور اور پانچ مرلے کے گھر کو محل بنا دیتا ہے لیکن ہم یہ حقیقت فراموش کر کے پوری زندگی بادلوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں‘ ہم سامنے موجود جنت کو چھوڑ کر خوابوں کے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں“۔ بارش دوبارہ شروع ہو گئی اور ہم سائے کی تلاش میں تیز تیز قدم اٹھانے لگے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں