منگل 23 جولائی 2019ء
منگل 23 جولائی 2019ء

میثاق شاہ محمود قریشی

”یہ طاقت کا پرانا فارمولا ہے‘ تقسیم کرو اور حکومت کرو“ صاحب کا سگار مہک رہا تھا‘ پورے کمرے میں کیوبن تمباکو کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی‘ وہ سگار پیتے جا رہے تھے اور کافی کے کپ میں لمبی لمبی سانس لے رہے تھے‘ صاحب دنیا کے ان چند لوگوں میں شامل ہیں جنہیں کافی سونگھنے کی عادت ہے‘ کافی دو طریقے سے انسانوں پر اثر انداز ہوتی ہے‘ یہ خون میں شامل ہو کر 21 منٹ میں انسان کو الرٹ کر دیتی ہے اور دوسرا یہ ناک کے ذریعے تین منٹ میں انسان کو چاک و چوبند بنا دیتی ہے‘ صاحب کافی کو ناک کے ذریعے دماغ تک پہنچاتے ہیں اور معدے کے راستے بھی چناں چہ یہ کافی کے کپ میں تین سانس لیتے ہیں اور googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); ایک چسکی۔وہ لمبا سانس لے کر بولے ”اپوزیشن کے تین گروپ ہیں اور ان گروپوں کے درمیان ایک کوئین ہے‘ پاکستان مسلم لیگ ن‘ پاکستان پیپلز پارٹی اور جے یو آئی یہ اپوزیشن ہیں جبکہ اختر مینگل کی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی کیرم بورڈ کی کوئین‘ یہ کوئین بہت اہم ہے‘ یہ اگر اپوزیشن کے ساتھ مل جائے تو حکومت گر جائے گی اور یہ اگر حکومت کو مکمل حمایت دے دے تو حکومت بجٹ بھی پاس کرا لے گی اور یہ اقتدار کے میدان میں بھی سرپٹ بھاگتی رہے گی اور اختر مینگل اپنی اس اہمیت سے پوری طرح واقف ہیں لہٰذا یہ وکٹ کی دونوں سائیڈز پر کھیل رہے ہیں‘ یہ اپوزیشن کے پارٹنر ہیں اور حکومت کے اتحادی‘ اپوزیشن انہیں وزیراعظم تک بنانے کےلئے تیار ہے مگر یہ 14 اگست تک تیل اور تیل کی دھار دیکھنا چاہتے ہیں‘ عمران خان آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایکسٹینشن دینا چاہتے ہیں تاہم وزیراعظم کو خطرہ ہے آرمی چیف انکار کردیں گے اور یوں حکومت کی کریڈیبلٹی زیرو ہو جائے گی چناں چہ یہ انہیں پہلے تیار کریں گے اور پھر اعلان کریں گے‘ اختر مینگل اس لمحے کا انتظار کر رہے ہیں‘ عمران خان نے اگر جنرل باجوہ کو راضی کر لیا تو یہ مکمل طور پر حکومت کے ساتھ جڑ جائیں گے ورنہ دوسری صورت میں یہ کھل کر اپوزیشن کا ساتھ دیں گے اور یوں حکومت ختم ہو جائے گی“ وہ رک گئے‘ کافی کا مگ ناک کے قریب لائے‘ لمبا سانس لیا اور کافی کی چسکی لے کر مگ میز پر رکھ دیا۔میں نے عرض کیا ”لیکن جناب اس میں تقسیم کرو اور حکومت کرو کہاں سے آگیا“ وہ ہنس کر بولے ”یہ فارمولا بہت زیادہ استعمال ہو رہا ہے‘ ملک میں اگر کسی کے پاس سٹریٹ پاور ہے تو وہ مولانا فضل الرحمن ہیں‘ یہ اگر اعلان کر دیں تو مدارس کے ہزاروں طلباءاسلام آبادبند کر دیں گے لیکن یہ اکیلے کچھ نہیں کر سکتے‘ یہ بندوق ہیں اور انہیں کسی نہ کسی کندھے کا سہارا چاہیے اور وہ کندھے ن لیگ اور پیپلز پارٹی ہیں‘ ملک کی دونوں بڑی پارٹیوں کے سربراہ اس وقت جیلوں میں ہیں۔حکومت جانتی ہے یہ دونوں پارٹیاں اگر مولانا کی قیادت میں اکٹھی ہو گئیں تو بجٹ پاس ہو سکے گا اور نہ حکومت چل سکے گی چناں چہ یہ مشترکہ اپوزیشن کا اتحاد توڑنے کےلئے کبھی ن لیگ کی قیادت کو ڈھیل دے دیتی ہے اور کبھی پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کو‘ یہ لوگ میاں نواز شریف اور مریم نواز سے خفیہ ملاقاتیں کرتے ہیں اور پھر ملاقات کی خبر لیک کر دیتے ہیں اور یہ خبر پیپلز پارٹی کی قیادت کے دل میں شریف برادران کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کر دیتی ہےاور یہ کبھی آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو سے ملاقاتیں کر کے ن لیگ کو یہ پیغام دے دیتے ہیں آصف علی زرداری سے ڈیل ہو رہی ہے اور یوں ن لیگ پیپلز پارٹی سے برگشتہ ہو جاتی ہے‘ یہ تکنیک جب اپنی افادیت کھو بیٹھتی ہے تو یہ شہباز شریف اور مریم نواز کو آمنے سامنے کھڑا کر دیتے ہیں اور پارٹی کے اندر تقسیم دکھائی دینے لگتی ہے‘ یہ صورت حال مولانا فضل الرحمن کو دونوں پارٹیوں سے دورلے جا رہی ہے‘ یہ تنگ آ چکے ہیں اور انہوں نے میاں نواز شریف کو یہ تک کہہ دیا تھا۔ہمارے علاقے میں کشمیریوں کے بارے میں کہا جاتا ہے یہ بندوق کو دھوپ میں رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں اور ہرگزرنے والے سے کہتے ہیں تپسی تے ٹھس کرسی‘میاں صاحب آپ بھی یہ کر رہے ہیں اور یہ آصف علی زرداری سے بھی یہ کہہ چکے ہیں آپ جتنی جلدی ایک کشتی کا فیصلہ کر لیں گے آپ بچ جائیں گے ورنہ آپ درمیان سے چر جائیں گے‘ مولانا نے اے پی سی میں بھی دونوں کو دھمکی دے دی تھی آپ نے اگر فیصلہ نہ کیا تو میں اکیلا احتجاج شروع کر دوں گا“ وہ خاموش ہو گئے۔کمرے میں خاموشی اور اضطراب تھا اور صاحب سگار کے کش پر کش لگا رہے تھے‘ میں نے کروٹ بدلی اور پوچھا ”کیا اپوزیشن حکومت گرانے میں کامیاب ہو جائے گی“ صاحب نے نفی میں سر ہلایا اور بولے ”ہرگز نہیں‘ یہ جانتے ہیں حکومت گری تو یہ سب جائیں گے اور دس سال تک واپس نہیں آ سکیں گے‘ یہ حکومت نہیں گرائیں گے تاہم یہ حکومت اور احتساب کے عمل کو کم زور سے کم زور کرتے چلے جائیں گے‘ یہ سینٹ کا چیئرمین تبدیل کر کے حکومت کوپیغام دے دیں گے ہم کم زور نہیں ہیں۔یہ بلوچ صادق سنجرانی کو بلوچ حاصل بزنجو کے ساتھ تبدیل کر دیں گے اور یہ چیئرمین نیب کے خلاف بھی میدان میں اتر آئیں گے‘ میاں شہباز شریف چیئرمین نیب کے خلاف عدالت جا رہے ہیں جبکہ آصف علی زرداری لوگوں کو اب کھل کر بتا رہے ہیں جسٹس جاوید اقبال کی تقرری کے پیچھے مریم نواز کے سمدھی چودھری منیر تھے‘ میں جسٹس فقیر محمد کھوکھر کو چیئرمین بنانا چاہتا تھا لیکن چودھری منیر نے میاں نواز شریف اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو قائل کر لیا تھا اور یوں چودھری منیر کی گارنٹی پر ہم نے جسٹس جاوید اقبال کے حق میں فیصلہ دے دیا۔پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر ارکان بھی شجاعت عظیم کے فارم ہاﺅس کی ایک میٹنگ کا ذکر کر رہے ہیں‘ میٹنگ میں تین لوگ شامل تھے اور وہاں ایک حلف دیاگیا تھا‘ یہ لوگ حلف کے الفاظ بھی دہراتے رہتے ہیں‘ یہ لوگ اب میڈیا میں اپنی غلطی کا اعتراف بھی کریں گے اور حلف کی تصاویر اور ویڈیوز بھی لیک کریں گے “ وہ خاموش ہو گئے‘ میں نے پوچھا ”لیکن اس کا کیا فائدہ ہو گا؟“ وہ ہنس کر بولے ” حکومت اور ریاستی اداروں پر دباﺅ اور بس“ میں نے پوچھا ”آخر اس سارے فساد کا نتیجہ کیا نکلے گا؟“۔وہ یک دم سیریس ہو گئے‘ سگار سائیڈ پر رکھا اور آگے جھک کر بولے ”یہ صورت حال ملک کو بالآخر قوم سے ایک عظیم خطاب تک لے جائے گی‘ قوم کو بتایا جائے گا عوام نے ملک کی دو بڑی پارٹیوں کو تین تین مواقع دے کر دیکھ لیا‘ یہ لوگ پہلے کہا کرتے تھے ہمیں پانچ سال پورے نہیں کرنے دیئے گئے‘ ہم اگر اپنا دور مکمل کر لیتے تو آج صورت حال مختلف ہوتی‘ قوم نے انہیں تیسری بار پورے پانچ سال دے دیے‘ یہ اپنے ادوار مکمل کر کے ایوانوں سے نکلے لیکن انہوں نے کیا کیا؟۔ملکی قرضوں کو چھ ہزار ارب سے 27 ہزار ارب تک پہنچا دیا‘ یہ قوم کو مقروض کر گئے‘ عمران خان قوم کےلئے نئی امید تھے‘ قوم انہیں کندھوں پر بٹھا کر ایوان اقتدار میں لے کر آئی لیکن عمران خان کے غلط فیصلوں نے رہی سہی کسر پوری کر دی لہٰذا ہمارے پاس اب ایک آپشن بچا ہے‘ ہم ملک کو ڈوبنے دیں یا پھر ملک کو بچا لیں اور ہم ملک کو بچا رہے ہیں“ صاحب ایک بار پھر خاموش ہو گئے۔میں نے عرض کیا ”آپ مجھے ڈرا رہے ہیں‘ آپ یہ بتانا چاہتے ہیں ہمیں ایک اور مارشل لاءکے لیے تیار ہو جانا چاہیے؟“۔وہ فوراً بولے ”ہرگز‘ ہرگز نہیں‘ ملک میں مارشل لاءنہیں لگے گا‘ فوج کسی قیمت پر اقتدار میں نہیں آئے گی“ میں نے حیران ہو کر پوچھا ”پھر کیا ہوگا“ وہ بولے ”نیشنل گورنمنٹ یا ٹیکنو کریٹس کی حکومت بنے گی اور شاہ محمود قریشی حکومت کے وزیراعظم ہوں گے“ میری حیرت میں اضافہ ہو گیا‘ میں نے پوچھا ”کیا اپوزیشن شاہ محمود قریشی کو قبول کر لے گی“ وہ ہنس کر بولے ”یہ تجویز اپوزیشن کی طرف سے آ رہی ہے‘ اپوزیشن سگنل دے رہی ہے آپ شاہ محمود قریشی کو وزیراعظم بنا دیں‘ ہم انہیں سپورٹ کریں گے۔شاہ محمود قریشی پر مولانا فضل الرحمن اور اختر مینگل کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا اور ق لیگ اور ایم کیو ایم بھی فوراً راضی ہو جائیں گی“ میں نے مزید حیران ہو کر پوچھا ”کیا پی ٹی آئی قیادت کی اس تبدیلی کو قبول کر لے گی“ وہ قہقہہ لگا کر بولے ”سو فیصد ‘ پارٹی شکر کرے گی“ میں نے عرض کیا ”کیوں؟“ وہ بولے ”پارٹی شدید ڈپریشن میں ہے‘ یہ لوگ باہر نہیں نکلتے‘یہ اپنے حلقوں میںجاتے ہیں تو لوگ ان کا راستہ روک کر دہائیاں دینے لگتے ہیں‘ حکومتی ارکان خود بھی اپنے کاروبار سے محروم ہو چکے ہیں۔یہ بھی ایف بی آر اور نیب سے خوف زدہ ہیں‘ پارٹی ملک کی معاشی حالت پر بھی غم زدہ ہے‘ یہ لوگ سمجھ رہے ہیں ملک میں اگر استحکام نہ آیا تو لوگ ان کے گھروں اور گاڑیوں پر حملے شروع کر دیں گے‘ حکومت کی حالت یہ ہو چکی ہے کوئی وزیرحکومت کی معاشی پالیسی کی وکالت کےلئے میڈیا میں جانے کےلئے تیار نہیں‘ حماد اظہر ریونیو کے وزیر ہیں اور یہ بھی ٹاک شوز میں نہیں جا رہے‘ حفیظ شیخ بھی سائیڈ پر نظر آتے ہیں اور فردوس عاشق اعوان بھی بچ بچ کر بولتی ہیں چناں چہ اگر شاہ محمود قریشی آ گئے تو تمام لوگ سکھ کا سانس لیں گے۔ملک ٹریک پر آ جائے گا“وہ خاموش ہو گئے‘ میں نے ان سے آخری سوال پوچھا ”یہ آپ کا اندازا ہے یا اطلاعات“ وہ ہنس کر بولے ”اطلاعات کی بنیاد پر اندازا‘ کیوں کہ اپوزیشن اب میثاق معیشت کی بجائے حکومت سے میثاق شاہ محمود قریشی کرنا چاہتی ہے اور میرا خیال ہے یہ ڈیل ہوجائے گی“ وہ اٹھ کر کھڑے ہو گئے‘ میں نے اٹھتے اٹھتے پوچھا ”اور اگر ایسا نہ ہوا تو؟“ وہ ہنس کر بولے ”پھر اللہ ہی حافظ ہے‘ آپ کا بھی‘ ہمارا بھی اور ملک کا بھی“۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں