اتوار 01 نومبر 2020ء
اتوار 01 نومبر 2020ء

منیجر آف دی سینچری‎‎

جیک ویلچ کی کامیابی کا سفر ماں کے ایک فقرے سے ہوا اور اس کے بعد وہ کسی جگہ رکا نہیں، اس کی والدہ عام ہائوس وائف تھی، یہ زیادہ پڑھی لکھی بھی نہیں تھی لیکن قدرت نے اسے ویژن سے مالا مال کر رکھا تھا اور یہ اسی ماں کا ویژن سے بھرپور فقرہ تھا جس نے اسے دنیا کا سب بڑا منیجر بنا دیا، یہ بیسویں صدی کا سب سے بڑا چیف ایگزیکٹو بن گیا، جیک اسکول کی ہاکی ٹیم کا حصہ تھا،میچ ہوا اور اس کی ٹیم ہار گئی، جیک کو غصہ آگیا، اس نے ہاکی پھینکی اور اونچی آواز میں چیخنے چلانے لگا، اس کی ماں اسٹیڈیم میں موجود تھی، وہ سیدھی لاکر روم میں گئی اور جیک کی ٹیم کے سامنے اسے مخاطب ہوئی " googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1557484938290-0'); }); googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); اگر تم ہارنا نہیں سیکھو گے تو تم کبھی جیتنا نہیں سیکھ سکو گے" یہ فقرہ تیر کی طرح جیک ویلچ کے دل میں لگا اور یہ اس کے بعد پوری زندگی ہارتا رہا اورہار کو کامیابی میں بدلتا رہا۔جیک ویلچ اس صدی کا سب سے بڑا چیف ایگزیکٹو، چیئرمین یا منیجر تھا، اسے فارچون میگزین نے1999ء میں منیجر آف دی سینچری کا ایوارڈ دیا، یہ امریکا کے چار سو امیر ترین شہریوں میں بھی شمار ہوتا ہے، اس کی کتاب "جیک: اسٹریٹ فرام دی گٹ" پچھلی صدی میں سب سے زیادہ بکنے والی تین بڑی کتابوں میں شمار ہوتی ہے، اب تک اس کی کروڑوں کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں، اس نے اسی اور نوے کی دہائی میں امریکا اور بعد ازاں پوری دنیا کی مینجمنٹ فلاسفی تبدیل کر دی، اس نے ادارے چلانے کی پوری سائنس بدل دی، جیک ویلچ کا والد ریلوے میں کنڈیکٹر تھا، جیک ویلچ نے 1960ء میں امریکی کمپنی جنرل الیکٹرک جوائن کی، یہ کمپنی میں جونیئر کیمیکل انجینئر تھا، یہ معمولی جاب تھی اور جیک ویلچ بڑی مدت تک یہ معمولی جاب کرتا رہا۔اس دوران اس نے تنخواہ میںاضافہ نہ ہونے کی وجہ سے نوکری چھوڑنے کا منصوبہ بھی بنایا اور 1963ء میں اس کی غلطی کی وجہ سے فیکٹری کی چھت اڑ گئی اور کمپنی نے بھی اسے فارغ کرنے کافیصلہ کر لیا، یہ قدرت کے کسی خفیہ ہاتھ کی وجہ سے جنرل الیکٹرک کا حصہ رہا، جنرل الیکٹرک اس وقت امریکا کی بڑی کمپنی تھی، اس کمپنی میں جاب عام پڑھے لکھے امریکی کی زندگی کا بڑا خواب ہوتی تھی مگر جیک ویلچ اسخواب کی انتہا چھونا چاہتا تھا، یہ کمپنی کا سربراہ بننا چاہتا تھا، یہ اپنی ہر ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کا آرٹ سیکھ چکا تھا چنانچہ یہ بارہ سال بعد وائس پریذیڈنٹ بن گیا، پانچ سال بعد سینئر وائس پریذیڈنٹ ہوا۔دو سال بعد وائس چیئرمین اور 1981ء میں بالآخر امریکا کا کم عمر ترین چیف ایگزیکٹو آفیسر اور چیئرمین بن گیا، یہ جیک ویلچ کے کیریئر کی بلندی تھی مگر یہ اس سے بھی آگے جانا چاہتا تھااور یہ گیا، اس نے تین کمال کیے، یہ جنرل الیکٹرک کا چیئرمین بنا تو کمپنی کا سالانہ منافع 26 بلین 8 سو ملین ڈالر تھا، کمپنی اس پر مطمئن تھی، بورڈ آف ڈائریکٹرز کا خیال تھا اس منافع میں اضافہ ممکن نہیں چنانچہ بورڈ نے اسے اس منافع کو قائم رکھنے کی ذمے داری سونپ دی لیکن 2001ء میں جیک ویلچ ریٹائر ہوا تو جنرل الیکٹرک کا منافع 130 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا اور کمپنی کی مارکیٹویلیو 14 ارب ڈالر سے 410 ارب ڈالر ہو چکی تھی۔یہ اس کا پہلا کمال تھا، اس کا دوسرا کمال مینجمنٹ کے نئے اصول تھے، یہ کہتا تھا آپ نمبر ون رہیں یا نمبر ٹو، آپ اگر اس کے بعد ہیں تو پھر آپ کے ہونے یا نہ ہونے میں کوئی فرق نہیں، یہ اپنا ہر وہ پراجیکٹ بند کر دیتا تھا جو نمبر ون اور نمبر ٹو کی دوڑ سے نکل جاتا تھا، اس نے کمپنی سے بیورو کریسی ختم کر دی، اوپن ڈور پالیسی دی، یہ اپنے ہاتھ سےلکھا ہوا خط خود فیکس کر دیتا تھا، اس نے احکامات کے درمیان موجود آفیسر ختم کر دیے، یہ خود بھی ملازم کو براہ راست کام کہتا تھا اور دوسروں سے بھی یہی امید رکھتا تھا، ایک وقت میں اس نے ایک لاکھ بیس ہزار بیکار ملازم فارغ کیے اور پورے امریکا میں نیوٹرون بم یا نیوٹرون جیک کے نام سے مشہور ہو گیا۔یہ ہر سال کمپنی کے 20 فیصد بہترین ملازموں کو بونس دیتا تھا اور دس فیصد بدترین ملازموں کوفارغ کرتا تھا، اس نے جنرل الیکٹرک کا ہر وہ منصوبہ بند کر دیا جو نمبر ون یا نمبر ٹو نہیں تھا، اس منصوبے کے تمام اثاثے بیچ دیے اور ان اثاثوں اور ملازمین سے جو رقم بچی وہ دوسرے شعبوں میں لگا دی اور یوں کمپنی کے منافع میں اضافہ ہو گیا، یہ کمپنی کی اوپن میٹنگز بلاتا تھا جس میں کوئی بھی ملازم چیئرمین تک کے احکامات پر اعتراض کر سکتا تھا اور اس کی بات غور سے سنی جاتی تھی،یہ اپنے ملازمین کی کارکردگی رپورٹ خود تیار کرتا تھا، یہ ملازمین سے براہ راست ملتا تھا اور ان سے کمپنی کے معاملات ڈسکس کرتا تھا اور جیک ویلچ کا تیسرا کمال اپنے متبادل کی تیاری تھا۔جیک ویلچ 20 سال جنرل الیکٹرک کا چیئرمین رہا، اس کے دور میں کمپنی ترقی کرتی رہی لیکن جیک ویلچ یہ سوچتا رہا میں جب اس کمپنی کو چھوڑ کر جائوں گا تو اس کی کیا حالت ہو گی، جیک ویلچ سوچتا تھا اگر میرے بعدکمپنی کو مجھ سے بہتر شخص نہ ملا تو میری ساری محنت اکارت جائے گی، جنرل الیکٹرک کا "ریونیو ڈائون" ہو جائے گا اور یوں ہماری کامیابی ناکامی میں بدل جائے گی چنانچہ اس نے اپنا متبادل تیار کرنا شروع کر دیا، اس نے کمپنی میں اور کمپنی کے باہر موجود بہترین دماغوں کا جائزہ لیا، انٹرویوز لیے اورجیفری ایمیلٹ کو اگلے چیئرمین کے لیے چن لیا۔جیک ویلچ اسے دس سال تک ٹریننگ دیتا رہا، یہ اسے ہرمیٹنگ میں ساتھ لے کر جاتا تھا، یہ اسے کمپنی کی باریکیوں کے بارے میں بتاتا اور اسے ماڈرن مینجمنٹ کے اصول سکھاتا، جیک ویلچ نے 1999ء میں ریٹائر ہو جانا تھا، یہ ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچا تو اسے محسوس ہوا جیفری ایمیلٹ ابھی مکمل طور پر ٹرینڈ نہیں ہوا چنانچہ اس نے اپنی ریٹائرمنٹ ڈیڑھ سال کے لیے مؤخر کر دی اور اس نے 2001ء میں اس وقت ریٹائرمنٹ لی جب جیفری ایمیلٹ سو فیصدٹرینڈ ہو چکا تھا، جیفری ایمیلٹ نے ستمبر 2001ء میں کمپنی سنبھالی، یہ اب جیک ویلچ سے زیادہ بہتر ڈیلیور کر رہا ہے اور یہ جیک ویلچ کا سب سے بڑا کمال تھا۔یہ کمال بعد ازاں ماڈرن مینجمنٹ بن گیا، آج آپ امریکا میں کمپنی کے لیے اپنا متبادل تیار نہیں کر سکتے تو آپ ادارے کے لیے خواہ کتنا ہی ریونیو پیدا کر لیں، آپ کتنے ہی تیر چلا لیں آپ ناکام سی ای او سمجھے جاتے ہیں، آپ کو عزت کی نگاہ سےنہیں دیکھا جاتا جب کہ ہمارے ملک میں اس کے برعکس ہوتا ہے، ہم اپنے اداروں، کمپنیوں اور فیکٹریوں میں چن چن کر اپنے سے زیادہ نالائق اور کمزور لوگ بھرتی کرتے ہیں تا کہ کوئی شخص ہماری جگہ نہ لے سکے اور ہماری جاب سلامت رہے، ہماری کوشش ہوتی ہے ہم جائیں تو ہمارے پیچھے اندھیرا ہی اندھیرا ہو، دفتروں، ملوں اور اداروں کو تالے لگ جائیں اور گلیوں میں بے روزگاری کا بھوتتلوار لے کر دوڑرہا ہو، ہم لوگ کچھ بھی نہ کریں تو بھی ہم لوگ جاتے جاتے کمپیوٹرز کی ہارڈ ڈسک نکال کر لے جائیں گے۔ہم چابیاں گم کردیں گے یا پھر فائلیں ضرور گیلی کر جائیں گے تا کہ ہمارے جانے کے بعد لوگ ہمارا سیاپا کرتے رہیں اور یہ رویہ ہمارا قومی المیہ ہے، ہم دکان سے لے کر حکومت اور مل سے لے کر سیاسی جماعت تک ملک کو اسی رویے کے ذریعے چلا رہے ہیں، آپ کو یقین نہ آئےتو آپ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت دیکھ لیجیے، آپ کو یہ لوگ انسان کم اور اژدھے زیادہ نظر آئیں گے کیونکہ انھوں نے آج تک اپنی پارٹی میں متبادل قیادت پیدا نہیں ہونے دی، یہ اپنی انا کے گملے میں نالائقوں اور خوشامدیوں کی پنیری لگاتے جا رہے ہیں چنانچہ ہمارے ملک میں جب بھی کسی جماعت کا کوئی قائد فارغ ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ہی پارٹی بھی تتر بتر ہو جاتی ہے، ہماری حکومتیں بھیجاتے ہوئے ایسے شاہکار نگراں مقرر کرجاتی ہیں کہ ہمیں ماضی کے مزار اچھے لگنے لگتے ہیں۔ہمیں رحمن ملک، حفیظ شیخ، اسلم رئیسانی، قائم علی شاہ اور رانا ثناء اللہ فرشتے دکھائی دینے لگتے ہیں، میں اکثر سوچتا ہوں جو لوگ بیس تیس سال کی جہد مسلسل اور سیاسی کوشش کے باوجود اپنا ایک متبادل تیار نہیں کر سکے، یہ ملک کو کیا بنائیں گے، یہ ملک کو کیا بچائیں گے، جو لوگ آج تک بھٹو، میاں، مفتی محمود اور باچا خاندان سے باہر پارٹی کا قائد تلاش نہیں کر سکے، وہ نیا پاکستان کہاں سے تلاش کریں گے، یہ چھٹانک بھر کے وہ پرندے ہیں جو اپنے پیدا ہونے والے ہر بچے کو آسمان کا ستون سمجھتے ہیں لیکن اپنے گھونسلے کوبارش تک سے نہیں بچا سکتے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں