هفته 31 اکتوبر 2020ء
هفته 31 اکتوبر 2020ء

قائداعظم کان پور تشریف لے آئے مگر منتظمین ان کا لباس دیکھ کر پریشان ہو گئے ‎

قائداعظم باسٹھ تریسٹھ کے پہلے شکار تھے، یہ دسمبر 1916ء میں لکھنؤ کے دورے پر گئے، قائد اس وقت تک مسلمانوں کے بڑے اور متفقہ لیڈر بن چکے تھے، لکھنؤ اس دور میں تہذیب اور شائستگی کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات کا مرکز بھی تھا، مسجدیں آباد تھیں، درگاہوں پر رش ہوتا تھا، شہر میں داڑھیاں، جبے، عمامے اور برقعے عام تھے، پالکیاں چلتی تھیں اور معزز گھرانوں کی خادمائیں تک پالکیمیں پردے کے پیچھے چھپ کر ایک محلے سے دوسرے محلے جاتی تھیں، لکھنؤ کے لوگ انگریزوں کے خلاف تھے چنانچہ یہ انگریزی لباس اور انگریزی طرز رہائش سے نفرت کرتے تھے، قائداعظم ان حالات میں لکھنؤ کے دورے پر آ رہے تھے، لکھنؤ کی مسلم لیگ نے لوگوں کی نفسیات کو سامنے رکھتے ہوئے شہر بھر میں مولانا googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1557484938290-0'); }); googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); محمد علی جناح کے نام سے بڑے بڑے پوسٹرز لگوا دیے اور عوام اسلام کے بطل جلیل کا بے تابی سے انتظار کرنے لگے، پروگرام کے مطابق قائداعظم نے بمبئی سے کان پور آنا تھا اور وہاں سے انھیں خصوصی ٹرین کے ذریعے لکھنؤ لایا جانا تھا، لکھنؤ مسلم لیگ نے قائد اعظم کے لیے ٹرین بک کروا دی۔ قائداعظم وقت مقررہ پر بمبئی سے کان پور تشریف لے آئے مگر منتظمین ان کا لباس دیکھ کر پریشان ہو گئے، قائداعظم نے تھری پیس سوٹ پہن رکھا تھا، آپ کے ایک ہاتھ میں فلیٹ ہیٹ تھا اور دوسرے ہاتھ میں سلگتا ہوا سگریٹ، منتظمین نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور آپس میں کھسر پھسر کرنے لگے، قائداعظم ان کی پریشانی بھانپ گئے، آپ نے ان سے پریشانی کی وجہ پوچھی تو منتظمین میں موجود ایک بزرگ نے آپ سے عرض کیا " لکھنؤ کے لوگ مذہبی ہیں، آپ اگر مہربانی فرما کر شیروانی پہن لیں تو عوام آپ کو دیکھ کر زیادہ خوش ہوں گے" قائداعظم نے فوراً انکار میں سر ہلایا اور فرمایا " میں نے زندگی میں کبھی شیروانی نہیں پہنی چنانچہ میں ایسا لباس پہننے کے لیےتیار نہیں ہوں، میں جس میں کمفرٹیبل نہیں رہتا"یہ فرمانے کے بعد قائداعظم اسی لباس میں لکھنؤ پہنچے اور لوگوں نے آپ کا دیوانہ وار استقبال کیا، قائداعظم نے وہاں تقریر بھی انگریزی میں کی اور کھانا بھی انگریزی کھایا۔ یہ باسٹھ تریسٹھ کی پہلی کوشش تھی مگر قائداعظم نے یہ کوشش ناکام بنا دی، قائداعظم پر اس کے بعد بھی باسٹھ تریسٹھ کے بے شمار حملے ہوئے مگر آپ یہ حملے بھی پسپا کرتے رہےمثلاً آپ پر ایک حملہ 1939ء میں شملہ میں ہوا، قائداعظم مسلمانوں سے خطاب کے لیے شملہ پہنچے، آپ نے حسب معمول انگریزی سوٹ پہن رکھا تھا، آپ کو کھلے رکشے میں بٹھا دیا گیا اور ہزاروں لوگ رکشے کودھکیلنے لگے، قائداعظم نے اپنا ہیٹ گھٹنے پر رکھا ہوا تھا اور آپ لوگوں کی طرف دیکھ کر ہاتھ ہلا رہے تھے، آپ کے ایک ساتھی نے عرض کیا " آپ ہیٹ کو پاؤں میں رکھ لیں " قائداعظم نے پوچھا" کیوں " اس نے عرض کیا " شملہ انگریزی تہذیب کا بڑا گڑھ ہے، یہاں انگریزوں کی آبادی زیادہ ہے، مقامی لوگ انگریزوں کے لباس سے نفرت کرتے ہیں، یہ آپ کے ہیٹ کو بھی پسند نہیں کر رہے" قائداعظم نے غصے سے اس کی طرف دیکھا، اپنا ہیٹ گھٹنوں سے اٹھا کر سر پر رکھا اور فرمایا " میں منافق نہیں ہوں " اور یوں باسٹھ تریسٹھ کا ایک اور وار ضایع ہو گیا، قائداعظم پوری زندگی یہ حملے سہتےاور انھیں پسپا کر تے رہے، ہندوستان کے علماء کرام آپ کے کتوں تک پر اعتراض کرتے رہے مگر قائداعظم آخری عمر تک اپنے کتوں سے پیار کرتے رہے، آپ ان کے ساتھ تصویریں بھی بنواتے تھے اور ان کے ساتھ وقت بھی گزارتے تھے، لوگ آپ کی نمازیں اور روزے بھی گنتے تھے اور یہ دعوے بھی کرتے تھے آپ کو قرآن مجید پڑھنا نہیں آتا، معترضین نے آپ کی طرز رہائش اور خیالات کی وجہ سےآپ کو نعوذ باللہ کافر اعظم تک کہا مگر آپ اپنی رفتار اور وژن کے مطابق آگے بڑھتے رہے، ہمیں یہ مانناپڑے گا قائداعظم نے زندگی بھر عمرہ اور حج نہیں کیا، علامہ اقبالؒ نے بھی حج نہیں کیا تھا (نوٹ: مجھے علامہ صاحب سے متعلق کسی کتاب میں حج اور عمرے کا ذکر نہیں ملا، اگر کسی صاحب کے پاس ایسی معلومات موجود ہیں تو مہربانی فرما کر مجھے ارسال کر دے)، قائداعظم اور علامہ اقبال کی داڑھی بھینہیں تھی، قائداعظم اپنے معمول میں اس قدر سخت تھے کہ آپ کے معالج کرنل الٰہی بخش نے آخری دنوں میں آپ کی سگریٹ نوشی پر پابندی لگا دی لیکن قائداعظم نے یہ کہہ کر یہ پابندی ماننے سے انکار کر دیا " ڈاکٹر میں صرف صحت کے لیے عمر بھر کا معمول نہیں بدل سکتا"۔ قائداعظم کو جب زیارت سے کوئٹہ اور پھر وہاں سے کراچی شفٹ کرنے کا وقت آیا تو قائداعظم نے شیو کے بغیر باہر نکلنے سےانکار کر دیا چنانچہ قائداعظم کی شیو بنائی گئی، انھیں نیا کوٹ پہنایا گیا اور ان کے ہاتھ میں نیا ریشمی رومال پکڑایا گیا تو قائداعظم نے اپنا اسٹریچر اٹھانے کی اجازت دی، قائداعظم کو شاید دعائے قنوت، سورۃ یاسین اور آیت الکرسی بھی زبانی یاد نہ ہو کیونکہ ہمیں کسی کتاب میں اس کا حوالہ نہیں ملتا اور یہ اگر جسارت نہ ہو تو یہ بھی حقیقت ہے آپ پر پارسی خاتون سے شادی کا جھوٹا الزام بھی لگا اور ہندوستان کیپارسی برادری نے آپ پر نابالغ لڑکی کو اغواء کرنے کا جھوٹا مقدمہ بھی بنوایا، لوگوں نے آپ کے عقائد کو سنی اور شیعہ خانوں میں ڈالنے کی کوشش بھی کی، اللہ معاف کرے لوگوں نے آپ کی صاحبزادی کی شادی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور یہ تک کہہ دیا جو شخص اپنی اکلوتی بیٹی کو نہیں سنبھال سکا وہ پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو کیسے سنبھالے گا اور یہ تمام اعتراضات ہندوستان کے پارسا، متقی،عالم اور شریعت کے امیروں نے داغے مگر قائداعظم اس کے باوجود آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ یہ دنیا کی پہلی اسلامی جمہوری سلطنت بنانے میں کامیاب ہو گئے۔یہ قائداعظم کا کمال تھا، آپ اب دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے آج قائداعظم، علامہ اقبال، خان لیاقت علی خان، خواجہ ناظم الدین اور عبدالرب نشتر حلقہ این اے 48 یا 49 سے الیکشن لڑنا چاہیں توکیا یہ ریٹرننگ آفیسر کے کسی سوال کا جواب دےسکتے ہیں؟ کیا، یہ آئین کی دفعہ 62 اور 63 کے مطابق خود کو صادق، امین، ایماندار اور شریعت کا پابند ثابت کر سکتے ہیں، مجھے خدشہ ہے یہ پانچوں حضرات شاید نظریہ پاکستان کی تعریف بھی نہ کر سکیں، علامہ اقبال کو بھی آج جمعیت علماء اسلام کے ان عظیم رہنماؤں کے سامنے کھڑا کر دیا جائے جن کی ڈگریاں جعلی نکل آئی تھیں اور یہ اس وقت مقدمات بھگت رہے ہیں اور ان کا علامہ صاحب سےاسلامی تعلیمات، قرآن اور اصول شریعت پر مقابلہ کرایا جائے تو شاید علامہ صاحب ہار جائیں اور اس ملک میں قائداعظم کابھی یہی حال ہو گا کیونکہ یہ ایسا ملک ہے جس میں جنرل پرویز مشرف کراچی اور اسلام آباد میں آئین کی دفعہ 62 اور 63 پر پورے نہیں اترتے، ان کے کاغذات مسترد ہو جاتے ہیں لیکن یہ چترال میں آئین پر پورے اتر جاتے ہیں اور انھیں وہاں الیکشن لڑنے کی اجازت مل جاتی ہے۔ملک ایک ہے لیکن قانون دو، اس ملک میں راجہ پرویز اشرف اور یوسف رضا گیلانی وزیراعظم رہنے کے باوجود حق نمایندگی کھو بیٹھتے ہیں لیکن مسرت شاہین صداقت اور امانت کے تمام اصولوں پر پوری اتر آتی ہے، اس ملک میں ایاز امیر جیسا بین الاقوامی صحافی دو کالم لکھنے پر نااہل ہو جاتا ہے مگر جنرل پرویز مشرف کو مارشل لاء لگانے، منتخب حکومت توڑنے، پورا آئین معطل کرنے، دوبار یونیفارم میں صدر بننے، عدلیہ کو محصور کرنے، ملک کو دہشت گردی کی نہ ختم ہونے والی جنگ میں دھکیلنے اور صدر کی حیثیت میں ڈانس کرنے کے باوجود الیکشن لڑنے کی اجازت مل جاتی ہے، اس ملک میں مخدوم امین فہیم این آئی سی ایل کیس میں ملوث ہونے کے باوجود الیکشن کے لیے اہل ہوجاتا ہے مگر جمشید دستی جیسا وہ لوئر مڈل کلاس شخص جس نے اپنے حلقے میںگورننس کا سارا پیٹرن تبدیل کر دیا وہ جیل میں جا گرتا ہے، یہ کیسا نظام ہے، یہ کیسا آئین ہے جو ایک شخص کو ایک آنکھ سے دیکھتا ہے اور دوسرے کو دوسری سے اور کوئی اس منافقت پر سوال نہیں اٹھاتا۔شراب اسلام میں حرام ہے اور دنیا کا کوئی شخص اس حرام کو حلال میں نہیں بدل سکتا مگر یہ بھی حقیقت ہے یہ ملک 1947ء میں بنا لیکن شراب 1973ء میں غیر قانونی قرار پائی، ہم 26 سال تکخاموش کیوں رہے؟ اور ان 26 برسوں میں قائداعظم، خان لیاقت علی خان، خواجہ ناظم الدین اور سردار عبدالرب نشتر جیسے لوگوں کی حکومتیں بھی آئیں، یہ ملک 1947ء میں بنا، متفقہ آئین 1973ء میں آیا لیکن آرٹیکل 62 اور 63 جنرل ضیاء الحق کے دور میں متعارف ہوا،ہم نے آئین کو 16سال تک 62 اور 63 سے کیوں محروم رکھا اور اگر یہ دفعات بہت اہم تھیں تو پھر مفتی محمود جیسے لوگوں نے انھیں 1973ء کے آئین میں شامل کیوں نہیں کرایا؟ ہمیں ماننا پڑے گا یہ منافقت ہے اور ہم نے جب تک خود کو ایسی منافقتوں سے پاک نہ کیا، ہمارے معاشرے کی اینٹیں اسی طرح ایک ایک کر کے گرتی رہیں گی، جنرل مشرف اہل ہوتے رہیں گے اور ایاز امیر نااہل قرار پاتے رہیں گے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں