جمعرات 01 اکتوبر 2020ء
جمعرات 01 اکتوبر 2020ء

ساڑھے 21 کروڑ

فون پر فون بج رہا تھا‘ وہ ہر فون اٹھاتے تھے‘ چند سیکنڈ بات سنتے تھے اور پھر مسئلے کا حل بتا کر فون بند کر دیتے تھے‘ میں گھنٹے بھر سے ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا‘ میں ان کے فونز سے اری ٹیٹ ہو رہا تھا مگر وہ کسی فون پر منہ بناتے تھے اور نہ ہی پریشان ہوتے تھے‘ اطمینان سے فون سنتے تھے‘ مسئلے کاحل بتاتے تھے اور پھر میری طرف متوجہ ہو جاتے تھے‘ وہ میری عمر کے ”نوجوان“ تھے‘ پچاس سے پچپن کے درمیان ہوں گے‘ کام یاب تھے۔چار کمپنیوں کے مالک تھے‘ ماشاء اللہ ارب پتی تھے اور یہ ساری دولت انہوں نے خود کمائی تھی‘ میں نے زندگی میں سیلف ہیلپ اور موٹی ویشن کے بے شمار کورسز googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1557484938290-0'); }); googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); کیے‘ مجھے تمام کورسز میں ایکسپرٹس نے صرف یہ بتایا اور سکھایا تھا‘ آپ جب بھی ترقی کریں آپ اپنے اور اپنے ورکرز کے درمیان مینجمنٹ کی دیواریں کھڑی کرتے چلے جائیں یہاں تک کہ آخر میں آپ گھر میں بیٹھیں‘ دنیا دیکھیں‘ کتابیں پڑھیں‘ فلمیں دیکھیں اور گالف کھیلیں اور لوگ آپ کے لیے کام کریں‘ آپ کا لوگوں‘ کلائنٹس اور ورکرز سے کم سے کم رابطہ ہونا چاہیے وغیرہ وغیرہ‘ میں بھی لوگوں کو یہی ٹریننگ دیتا ہوں‘ میں انہیں بتاتا ہوں آپ اپنے ورکرز کے درمیان گیپ بڑھاتے جائیں‘ مینیجرز رکھیں اور اپنے آپ کو کام سے ”پل آؤٹ“ کرتے جائیں‘ آپ کی پراگریس بڑھ جائے گی‘دنیا میں بزنس بڑھانے کے دو طریقے ہیں‘ مشینیں اور ماہر لوگ‘ آپ لوگ اور مشینیں بڑھاتے جائیں آپ کا کام ترقی کرتا جائے گا لیکن وہ میری اور میرے استادوں کی فلاسفی سے بالکل مختلف تھے‘ وہ ہر فون سنتے تھے‘ اپنے ہر ورکر سے ملتے تھے اور اسے باقاعدہ احکامات دیتے تھے مگر وہ اس کے باوجودچڑچڑے پن سے بھی محفوظ تھے‘ یہ بات میرے لیے حیران کن تھی‘ میں اس کی وجہ سننے اور سمجھنے کے لیے ان کے پاس آیا تھا۔میں نے ان سے پوچھا ”آپ کتنے گھنٹے فون سنتے ہیں“ وہ قہقہہ لگا کر بولے ”سات گھنٹے“ میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا‘ وہ بولے ”میں صبح دس بجے فون آن کرتا ہوں اور پانچ بجے بند کر دیتا ہوں‘ میرے تمام دوست‘ رشتے دار‘ کلائنٹ اور ورکرز میری اس عادت سے واقف ہیں لہٰذا یہ انہی سات گھنٹوں کے درمیان مجھے فون کرتے ہیں“ میں نے پوچھا ”اور شام پانچ بجے کے بعد“ وہ ہنس کر بولے ”میں اس کے بعد فون کو ہاتھ نہیں لگاتا۔میری فیملی ایمرجنسی میں ڈرائیور کے فون پر مجھ سے رابطہ کر لیتی ہے جب کہ اس کے علاوہ دنیا میں کوئی شخص مجھ سے کانٹیکٹ نہیں کر سکتا‘ میں باقی وقت اپنی ذاتی زندگی‘ ایکسر سائز‘ کتابوں‘ فلموں اور ہنسنے کھیلنے کو دیتا ہوں“ میں نے پوچھا ”کیا آپ سات گھنٹے ہر فون سنتے ہیں“ وہ بولے ”ہاں ہر فون“ میں نے پوچھا ”یہ ایک غیرمعمولی عادت ہے‘ اس کے پیچھے کیا حکمت ہے“۔ وہ ہنس کر بولے ”یہ میری کام یابی کا واحد گُر ہے“ ۔وہ رکے اور لمبی سانس لے کر بولے ”دنیا میں شکایتی اور مسئلے پیدا کرنے والے لوگ اکثریت میں ہیں‘ آپ کسی سے مل لیں وہ آپ کے سامنے شکایتوں کے انبار لگا دے گا‘ وہ آپ کے مسائل بڑھا دے گا‘ آپ فرض کریں آپ اپنے ٹی بوائے کو بلا کر چائے کا آرڈر دیں‘ وہ کچن میں جائے‘واپس آئے اور پوچھے کتنی چائے سر! آپ بتائیں تین‘ وہ تھوڑی دیر بعد پھر واپس آ کر پوچھے سر دودھ پتی بناؤں یا سیپرٹ‘ آپ بتائیں سیپرٹ‘ وہ تھوڑی دیر بعد پھر واپس آ جائے اور پوچھے سر منرل واٹر کی بناؤں یا ٹونٹی کا پانی ڈال دوں۔آپ منرل واٹر کہہ دیں اور وہ پھر واپس آکر پوچھے سر چائے کپوں میں ڈال کر لاؤں یا چینک میں تو آپ کیا کریں گے؟آپ یقینا چڑچڑے ہو جائیں گے لیکن اس کے مقابلے میں اگر آپ کے پاس ایک ایسا ٹی بوائے ہے آپ جسے اشارہ کرتے ہیں‘ وہ باہر جاتا ہے اور کمرے میں موجود تمام لوگوں کے لیے سیپرٹ چائے لے آتا ہے تو آپ کس کو پسند کریں گے‘ پہلے ٹی بوائے کو یا دوسرے کو؟“ وہ رک کر میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے عرض کیا ”میں دوسرے کوپسند کروں گا“۔وہ ہنس کر بولے ”آپ سو فیصد ٹھیک کہہ رہے ہیں اور یہ دوسرا ٹی بوائے پوری زندگی کام یاب رہے گا‘ یہ دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرے گا لیکن ایشو یہ ہے ملک میں 95 فیصد لوگ پہلے ٹی بوائے جیسے ہیں‘ یہ کم زور قوت فیصلہ کے شکی لوگ ہیں‘ یہ ہر قدم پر دوسرے کی طرف مڑ کر دیکھتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں میں آگے کیا کروں؟ آپ نے اکثر اپنے دوستوں میں دیکھا ہو گا یہ چھوٹا معمولی سا کام کرنے کے بعد بھی دائیں بائیں دیکھ کر پوچھیں گے کیوں پھر‘ کیسا رہا‘ ہور دسو! یہ کون لوگ ہیں؟۔یہ ہر قدم پر تھپکی کے طلب گار لوگ ہیں‘ انہیں ہر پانچ منٹ بعد واہ واہ چاہیے اور ہمارے ملک میں 95 فیصد لوگ ایسے ہیں“ وہ رک گئے‘ میں نے لمبی سانس لے کر پوچھا ”اس مثال کافونز کے ساتھ کیا تعلق ہے؟“ وہ ہنس کر بولے ”قوت فیصلہ کی کمی اور طبیعت میں شک کی وجہ سے لوگ کام نہیں کر پاتے‘ یہ سارا دن کسی نہ کسی کے آرڈر یا مشورے کے منتظر رہتے ہیں چناں چہ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو مسائل کا ادراک اور مسئلے حل کرنے کی قوت دے رکھی ہو وہ لوگ ایسے لوگوں کے درمیان اندھوں میں کانے راجے بن جاتے ہیں۔یہ کام یاب ہو جاتے ہیں‘ ہمارے جیسے معاشروں میں مسئلے حل کرنے والے لوگ مسئلے پیدا کرنے والوں کے مقابلے میں بہت جلد ترقی کرتے ہیں مگر ایسے لوگ بمشکل پانچ فیصد ہوتے ہیں اور میں ان پانچ فیصد لوگوں میں ہوں‘ میں نے آج سے چالیس سال پہلے ٹھیکے داری شروع کی تھی‘ میں ابتدائی دنوں میں سائے میں کرسی رکھ کر بیٹھ جاتا تھا اور مجھ سے مستری اور مزدور جو پوچھتے تھے میں انہیں فوراً ہنس کر بتا دیتا تھا‘ میں انہیں ہرگزیہ نہیں کہتا تھا تم دس سال سے کام کر رہے ہو‘ تمہیں آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا سیمنٹ میں کتنی ریت اور کتنا پانی ڈالنا چاہیے۔مجھ سے کوئی شخص دن میں ایک ہی سوال دس مرتبہ بھی پوچھتا تھا تو میں اسے باقاعدہ جواب دیتا تھا‘ میں مالکان کے لیے بھی ہر وقت دستیاب ہوتا تھا‘ ان کی تمام انکوائریوں کا جواب بھی دیتا تھا‘ میری یہ عادت مجھے ٹھیکے دار سے صنعت کار بنا گئی‘ میں آج بھی چالیس سال پرانا فارمولا استعمال کرتاہوں‘میں سات گھنٹے فون سنتا ہوں‘ لوگوں سے ملتا ہوں‘ یہ مجھ سے پوچھتے ہیں اور میں انہیں بتاتا ہوں“ وہ خاموش ہو گئے۔میں نے عرض کیا‘ جناب آپ میری کندذہنی سمجھیں لیکن حقیقت یہ ہے مجھے اب بھی آپ کی تکنیک سمجھ نہیں آئی۔وہ ہنسے اور بولے ”آپ یورپ‘ امریکا‘ چین اور جاپان جاتے رہتے ہیں‘ آپ وہاں جب کسی گورے کاسامنا کرتے ہیں تو کیا وہ آپ کا مسئلہ فوراً حل نہیں کرتا؟“ میں نے ہاں میں جواب دیا ”ہاں میں جس کے سامنے بھی کھڑا ہوتا ہوں وہ میرا مسئلہ سن کر اس کے حل میں لگ جاتا ہے اور آخر میں مجھے کاغذ پکڑا کر روانہ کر دیتا ہے“ وہ ہنس کر بولے ”آپ نے دیکھا ہو گا گورا آپ کو کسی دوسرے کی طرف نہیں بھجوائے گا جب کہ آپ پاکستان میں کسی جگہ کھڑے ہوجائیں‘ آپ کسی سے کچھ بھی پوچھ لیں وہ آپ کو کسی دوسرے شخص کی طرف بھجوا دے گا۔آپ کسی دن تجربہ کر لیں‘ آپ وضو خانے میں ٹونٹی کے سامنے کھڑے ہو کر دوسرے نمازی سے یہ پوچھ لیں کیا میں اس ٹونٹی پر وضو کر سکتا ہوں‘ وہ آپ کو اگلی ٹونٹی کی طرف روانہ کر دے گا‘ آپ کسی سرکاری یا غیرسرکاری دفترچلے جائیں‘ کلرک‘ افسر اور ماتحت آپ کو آگے سے آگے روانہ کرتے چلے جائیں گے‘ آپ ایک میز سے دوسری‘ ایک دفتر سے دوسرے دفتر اور ایک محکمے سے دوسرے محکمے کے درمیان فٹ بال بنتے چلے جائیں گے۔آپ کے کاغذ‘ آپ کی فائل پر ہر شخص کوئی نہ کوئی اعتراض لگاتا رہے گا‘ کوئی آپ کا کام نہیں کرے گا‘ ہمارا یہ رویہ ہماری راہ کی رکاوٹ ہے‘ ہم اس وجہ سے ترقی نہیں کر رہے‘ ہم میں سے 95 فیصد لوگ صرف مسائل پیدا کرتے ہیں‘ کیڑے نکالتے ہیں یا پھر بار بار پوچھتے ہیں چائے کس کپ میں لے کر آؤں؟ صرف پانچ فیصد لوگ دوسروں کے مسائل حل کرتے ہیں‘ دوسروں کو گائیڈ کرتے ہیں‘ میں ان پانچ فیصد لوگوں میں ہوں لہٰذا روزانہ سات گھنٹے دوسروں کو مشورے دیتا ہوں اور دوسروں کے مسائل حل کرتا ہوں۔میں گوروں جیسا ہوں‘ مسئلہ پیدا نہ کرو‘ مسئلہ حل کرو اور یہ میری کام یابی کی واحد وجہ ہے‘ آپ بھی یہ فیصلہ کر لیں آپ ساڑھے 21 کروڑ میں رہنا چاہتے ہیں یا پھر آپ کو پچاس لاکھ میں شامل ہونا چاہیے‘ چوائس آپ کی ہے‘ آپ سارا دن دوسروں سے پوچھتے رہیں یا پھر سات گھنٹے لوگوں کو بتاتے رہیں“۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں