اتوار 09  اگست 2020ء
اتوار 09  اگست 2020ء

خلافت عثمانیہ

خلافت عثمانیہ کا اصل بانی ارطغرل کا پوتااور عثمان غازی کا بیٹا اورخان تھا‘ ترک اسے آرخان بھی کہتے ہیں‘ وہ 1281ء میں صغوط میں پیدا ہوا اور اس کا بچپن اپنے دادا کی گود میں گزرا‘ وہ ارطغرل کا پسندیدہ پوتا تھا‘ وہ اسے اپنی جوانی کی مہمات کے قصے سناتا رہتا تھا‘ وہ زمین پر تلوار سے دنیا کا نقشہ بناتا تھا‘ ابن عربی کی پیش گوئی سناتا تھا اور پھر اورخان سے کہتا تھا ”جان پدر تم نے یہ سارے شہر فتح اور میرے نام کے سکے جاری کرنے ہیں‘ تم اگر یہ نہ کر سکو تو تم اپنے بیٹوں کو میری قبر پر لا کر انہیں بتانا یہاں ایک ایسا شخص سو رہا ہے جس نے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست کا googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1557484938290-0'); }); googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); خواب دیکھا تھا“۔اورخان نے یہ بات پلے باندھ لی‘ ارطغرل 1288ء میں انتقال کر گیا‘ اورخان کی عمر اس وقت سات سال تھی‘ وہ جوان ہونے تک روز دادا کی قبر پر حاضری دیتا تھا اور قبر کے سرہانے کھڑے ہو کردادا کا خواب دہراتا تھا‘ وہ عثمان غازی کے ساتھ مل کر صغوط کے دائیں بائیں موجود قلعے بھی فتح کرتا رہا‘ سن 1300ء میں علاقے کی چاروں بڑی ریاستیں زوال پذیر ہو گئی تھیں‘ سلجوق ریاست ختم ہو گئی‘ ایوبی سلطنت کم زور ہورہی تھی‘بازنطینی ایمپائر کی اینٹیں بھی گر رہی تھیں اور منگولوں کا طوفان بھی سمٹ کر چین تک محدود ہو گیا تھا‘ ایشیا کوچک میں اس وقت گرے ہوئے قلعوں‘ خاک اڑاتے شہروں‘ بکھرتے محلات اور گزرے وقت کے نوحوں کے سوا کچھ نہیں تھا لیکن آپ قدرت کا معجزہ دیکھیے‘ اسی خون آشام دور میں دو نئی طاقتیں پیدا ہو گئیں‘ ازبکستان میں امیر تیمور نے جنم لے لیا اور ترکی میں ارطغرل کا خاندان سر اٹھانے لگا‘ امیر تیمور اور آرخان دونوں کے دور میں زیادہ فرق نہیں‘ امیر تیمور نے اورخان کے پوتے بایزید یلدرم کو 1402ء میں انگورہ (انقرا) میں شکست دی تھی‘ یہ دونوں طاقتیں بحران میں ابھریں اور یہ دیکھتے ہی دیکھتے تاریخ بن گئیں۔اورخان نے 1326ء میں عثمان غازی کے انتقال کے بعد عنان اقتدار سنبھالی‘ عثمانی سلطنت اس وقت صغوط سے شروع ہوتی تھی اور سو کلو میٹر بعد بورسا پہنچ کر ختم ہو جاتی تھی لیکن اورخان نے اس کے باوجود نہ صرف اپنا سکہ جاری کیا بلکہ اپنی ریاست کا آئین‘ قانون اور بیوروکریٹک سسٹم بھی بنایا۔یہ اورخان تھا جس نے اپنے دادا ارطغرل کی داستان لکھوائی اور اس کے نام کا سکہ جاری کیا‘ یہ وہی سکہ تھا جوآگے چل کر ڈرامہ سیریز ارطغرل کا محرک بنا‘ کیسے؟ یہ میں آپ کوآئندہ کالموں میں بتاؤں گا‘ ارطغرل خاندان نے فیصلہ کیا تھا یہ اسلامی دنیا کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کریں گے‘ ان کا فوکس بازنطینی ریاست ہو گی لہٰذا یہ صرف ان کے قلعوں پر حملے کرتے تھے‘ اورخان نے بورسا کے بعد ازنیق‘ ازمیت اور کاراسی کے قلعے فتح کر لیے‘ آپ ارطغرل میں بار بار نکوسیااور نومیدیا کا ذکر سن رہے ہوں گے۔نکوسیا آج کل سائپرس کا دارالحکومت ہے جب کہ نکومیدیا یونان کا شہر تھا‘ دونوں شہر چودھویں صدی میں اہم اور بڑے ہوتے تھے‘ اورخان نے یہ بھی فتح کر لیے‘ یہ اس کے بعد سابق سلجوق ریاست کے شمال مشرقی علاقوں کی طرف بڑھا اور آدھا اناطولیہ بھی لے لیا اور پھر یہ آج کے ترکمانستان کی طرف مڑ گیا اور اس کا خاصا حصہ بھی قابو کر لیا‘ بازنطینی حکومت اس سے گھبراتی تھی چناں چہ بازنطینی بادشاہ جان ششم نے اس کے ساتھ امن معاہدہ کیا اور اپنی صاحبزادی تھیوڈورا اس کے عقد میں دے دی۔یہ پہلا ترک سلطان تھا جس نے گیلی پولی اور انقرا فتح کر لیے‘ اس نے گورننس کا اپنا ایک ماڈل بھی تخلیق کیا تھا‘ آغوز قبائل جھنڈے کو سنجاق کہتے تھے‘ اورخان نے ریاست کو مختلف صوبوں اور ضلعوں میں تقسیم کیا اور ہرضلع دار کو مختلف رنگ کا جھنڈا دے دیا‘ ان جھنڈوں کی وجہ سے اس کے ضلعے سنجاق کہلاتے تھے‘ اس نے ضلع داروں کو اپنی فوج بنانے‘ علاقے فتح کرنے اور ٹیکس جمع کرنے کا اختیار بھی دے دیا تھا‘ اس حکمت عملی کی وجہ سے اس کی فوج بھی مضبوط ہو گئی اور عوام بھی خوش حال ہو گئے۔اس نے بے شمار مسجدیں‘ مدرسے اور کاروان سرائے بنوائے اور وہ ایشیا کوچک کا پہلا حکمران تھا جس نے بورسا میں یونیورسٹی بنائی تھی‘ اورخان کے بعد اس کا بیٹا مراد اول سلطان بنا اور اس نے سلطنت عثمانیہ کو حقیقتاً سلطنت عثمانیہ بنا دیا‘ مراد 30 سال حکمران رہا‘ وہ ان 30 برسوں میں 24 سال میدان جنگ میں رہا‘ اس کا ریکارڈ تھا اس نے کوئی جنگ نہیں ہاری تھی‘ اس نے بلغاریہ‘ سربیا اور مقدونیہ فتح کر لیے‘ اس کی آخری جنگ کوسوو میں ہوئی تھی اور پورے یورپ کی فوجیں اکٹھی ہو کر اس کے مقابلے کے لیے میدان میں اتری تھیں لیکن اس نے اس مشترکہ فوج کو بھی خاک چٹوا دی۔وہ 1389ء میں کوسوو کی جنگ کے دوران زخمی ہو کر انتقال کر گیا‘ مراد اول کے مرنے کی خبر پھیلی تو پورے یورپ میں جشن منایا گیا اور تمام کلیساؤں کی گھنٹیاں بجائی گئیں‘ مراد اول نے عثمانی سلطنت کے رقبے میں پانچ گنا اضافہ کیا لیکن آپ یہ جان کر حیران ہوں گے چار نسلوں کی فتوحات کے باوجود مراد اول کے انتقال تک سلطنت عثمانیہ صرف 20 ہزار مربع کلو میٹر پر محیط تھی اور یہ رقبہ آج کی راولپنڈی ڈویژن سے بھی کم تھا‘ یہ تھی سلطنت عثمانیہ‘ چار نسلوں کے بعد کی سلطنت عثمانیہ۔یہ حقیقت ثابت کرتی ہے ریاستیں ایک دن میں نہیں بنا کرتیں‘ ان کی بنیادوں تک میں چار چار نسلیں کھپ جاتی ہیں‘ آپ ایران سے لے کر ویانا تک سفر کریں‘ آپ کو ہر دس پندرہ کلو میٹر بعد کوئی نہ کوئی مزار‘ کوئی نہ کوئی قبرستان ملے گا اور اس قبرستان میں آپ کو کوئی نہ کوئی ترگت‘ کوئی نہ کوئی عبدالرحمن‘ کوئی نہ کوئی سامسا اور کوئی نہ کوئی بامسی ملے گا‘ ویانا کے مضافات اور بداپسٹ کی پہاڑیوں تک پر ترک قبرستان ہیں اور ہر قبر کے سرہانے کلمہ شہادت لکھا ہے۔ریاستوں کو ریاست بنانے میں نسلوں کا لہو اور ہڈیاں خرچ ہوتی ہیں اور پھر کہیں جا کر ریاستیں سر اٹھاتی ہیں‘ پھر کہیں جا کر ان کے جھنڈے اقوام عالم کے درمیان لہراتے ہیں‘ خلافت عثمانیہ کی رگوں میں بھی ارطغرل کی 18 نسلوں اور 36 سلطانوں کا لہو شامل ہوا اور پھر کہیں جا کر ارطغرل آج کی نسل تک پہنچا‘ پھر کہیں جا کر دنیا نے تسلیم کیا ”ترک صرف ترک ہوتے ہیں“ نپولین بونا پارٹ نے ارطغرل کی نسل کے بارے میں کیا خوب کہا تھا‘ اس نے کہا تھا‘ دنیا کی ہر فوج کسی نہ کسی کے سٹائل میں لڑتی ہے لیکن ترک صرف اور صرف ترکوں کے سٹائل میں لڑتے ہیں۔ارطغرل کی نسل نے صرف تلواروں اور گھوڑوں میں کمال نہیں کیا بلکہ اس نے دنیا کو بیوروکریسی‘ آرکی ٹیکچر‘ لائف سٹائل اور فوج سازی کا ماڈرن فن بھی دیا‘ عثمانی سلطان مشرقی یورپ کے عیسائی بچوں کو گود لے لیتے تھے‘ یہ ان بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلاتے تھے اور یہ جب بڑے ہو جاتے تھے تو یہ انہیں بیورو کریسی میں شامل کر دیتے تھے‘ یہ بچے رشتے داروں کی مجبوریوں سے پاک ہوتے تھے چناں چہ یہ پوری زندگی کرپشن فری رہتے تھے۔ترک فوج کا ایک جاں نثار دستہ ”ینی چری“ کہلاتا تھا‘ یہ لوگ صرف مرنے کے لیے میدان میں اترتے تھے لہٰذا یہ کبھی ہار کر واپس نہیں آتے تھے‘ سلطان بھی ان کے خوف سے کوئی ناانصافی‘ کوئی گڑبڑ نہیں کرتے تھے‘ یہ باغی شہزادوں کے سر اتار دیتے تھے اور کم زور اور کرپٹ بادشاہ کو کان سے پکڑ کر تخت سے اتار دیا کرتے تھے اور آپ نے اگر ترکش آرکی ٹیکچر دیکھنا ہو تو آپ استنبول چلے جائیں‘ آپ کو ہر پرانی عمارت‘ ہر پرانی مسجد پکڑ کر بیٹھ جائے گی۔آپ اس کے صحن سے باہر نہیں نکل سکیں گے اور رہ گیا لائف سٹائل تو کافی ہو‘ سگریٹ ہو‘ کاغذ ہو‘ رائفل ہو‘ بوٹ ہوں‘ کموڈ ہو یا پھر ہیئر کلرز ہوں آپ کو ان کے پیچھے سلطنت عثمانیہ اور ترک ملیں گے‘ یہ تمام چیزیں ایجاد یورپ میں ہوئیں لیکن انہیں بنایا اور مارکیٹ ترکوں نے کیا‘ ارطغرل کی نسل کے ہر سلطان نے اپنے نام سے ایک محلہ آباد کیا تھا اور اس محلے میں شان دار مسجد‘ مدرسہ اور شفاخانہ بھی بنوایا اور اپنا مقبرہ بھی‘ میں درجنوں مرتبہ ترکی جا چکا ہوں لیکن آپ یقین کریں میں ہر بار پہلے سے زیادہ متاثر ہو کر واپس آتا ہوں‘ یہ ملک مجھے ہر بار حیران کر دیتا ہے۔آپ قدرت کا انعام دیکھیے‘ ارطغرل کے پاس خیمہ لگانے اور گھوڑا باندھنے کی جگہ نہیں تھی لیکن پھر اس کی نسل میں ایک ایسا وقت آیا جب تین براعظموں پر ان کی حکومت تھی‘ ان کا جھنڈا چین اور روس کی سرحد سے لے کر ویانا اور ایران‘ عراق‘ سعودی عرب اور شام سے ہوتا ہوا مصر تک جاتا تھا‘ ارطغرل کی نسل کے ایک بادشاہ سلیمان دی گریٹ کی سلطنت 20 لاکھ مربع میل تک پھیلی ہوئی تھی‘یہ ہوتی ہے اللہ کی دین‘ اسے کہتے ہیں اللہ جب رحم کرنے پر آتا ہے تو پھر یہ چرواہوں کی نسلوں کو قوموں کا تاج بنا دیتا ہے‘ یہ پھر عروج کو بھی اتنا عروج دیتا ہے کہ عروج کو بھی پسینہ آ جاتا ہے‘ واہ پروردگار! تیرے بھی کیا کہنے ہیں۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں