پیر 28  ستمبر 2020ء
پیر 28  ستمبر 2020ء

ہم دنیا کے بہترین مسلمان ہیں

محمد ربیع شحاتہ یوسف مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے معروف مذہبی رہنما ہیں‘ یہ جمعہ کی نماز کی امامت بھی کراتے ہیں‘ مصر میں امام حضرات حکومت کے ملازم ہوتے ہیں‘ یہ اپنی مرضی سے نماز پڑھا سکتے ہیں اور نہ خطبہ دے سکتے ہیں‘ تبلیغ کی اجازت بھی ریاست دیتی ہے‘ پاکستان کی طرح کوئی بھی شخص یا جماعت اٹھ کر تبلیغ شروع نہیں کر دیتی یا کوئی بھی کچا پکا عالم لاؤڈ اسپیکر آن کر کے خطاب نہیں فرمانے لگتا‘ میں آج کل کراچی کے ایک ذاکر کے ایمان افروز خطبات سن رہا ہوں۔یہ کبھی برما کے جنگلوں میں لوگوں کو مار کر زندہ فرما دیتے ہیں اور کبھی چین کے سمندروں میں پانی پر گھوڑا دوڑا دیتے ہیں اور ڈوبے ہوئے شہزادے کو googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); ایک ہاتھ سے زندہ باہر نکال لیتے ہیں‘ یہ اپنے زائرین اور حاضرین سے کلپ بنواتے ہیں‘ سوشل میڈیا پر لگواتے ہیں‘ کلپس وائرل ہوتے ہیں اور ریاست میں اتنی بھی جان نہیں کہ یہ ان سے درخواست کر سکے ”جناب ذرا ہاتھ ہلکا رکھیں‘ پوری دنیا ہم پر ہنس رہی ہے“ لیکن مصر میں ایسا نہیں ہوتا‘ حضرت امام شافعیؒ کے ملک میں تمام علماء کرام‘ مساجد‘ جماعت خانے اور مدارس ریاست کی نگرانی میں کام کرتے ہیں اور مصر وہ ملک ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے قرآن مجید اترا حجاز میں تھا لیکن اسے پڑھا (قرات) مصریوں نے ہے‘ مصری قاری آج بھی دنیا میں نمبر ون ہیں۔ہم محمد ربیع شحاتہ کی طرف آتے ہیں‘ مصری حکومت نے کرونا کے بعد 21 مارچ کو ملک کی تمام مساجداور چرچزبندکر دیے‘ نماز جمعہ پر بھی پابندی لگا دی گئی لیکن امام مسجد محمد ربیع شحاتہ یوسف نے چھپ کر اپنے گھر میں جمعہ پڑھانا شروع کر دیا‘جمعہ 17 اپریل کو مخبری ہو گئی‘ امام صاحب کے گھر پر چھاپہ پڑا اور یہ مقتدیوں سمیت ”رنگے ہاتھوں“ پکڑے گئے‘ حکومت نے انہیں حراست میں بھی لے لیا‘ انہیں امامت سے برطرف بھی کر دیا اور ان کا خطابت کا لائسنس بھی منسوخ کر دیالہٰذا علامہ محمد ربیع شحاتہ یوسف اب ملک کے کسی حصے میں خطاب اور امامت نہیں کر سکیں گے‘ کیوں؟ کیوں کہ مصر میں حکومت خطاب‘ قرات اور امامت تینوں کا لائسنس جاری کرتی ہے اور لائسنس کے لیے باقاعدہ کوالی فکیشن اور ٹیسٹ ہوتا ہے‘ وہاں کوئی بھی شخص صرف داڑھی رکھ کر صوفی‘ امام‘ خطیب‘ مولانا یا علامہ نہیں بن جاتا‘ وہاں مذہب انجینئرنگ اور ڈاکٹری سے زیادہ مشکل ہے‘ مصر میں ڈاکٹر یا انجینئر کوئی بھی بن سکتا ہے لیکن عالم ہر کوئی نہیں کہلا سکتا۔یہ مصر کی صورت حال تھی‘ آپ باقی اسلامی ملکوں کی صورت حال بھی دیکھ لیجیے‘سعودی عرب مسلمانوں کی مقدس ترین سرزمین ہے‘ اسلام مکہ اور مدینہ سے نکلا اور ہم ان دونوں شہروں کی خاک کو سرمہ سمجھ کر آنکھوں میں لگاتے ہیں‘ سعودی عرب کی حکومت نے 20 مارچ کو خانہ کعبہ اور مسجد نبوی بند کر دی‘ یہ دونوں اس وقت بھی بند ہیں‘ دونوں شہروں میں کرفیو ہے‘ ملک بھر میں مساجد بھی بند ہیں‘ نماز تراویح پر بھی پابندی ہے اورایک ماہ سے جمعہ کے اجتماعات بھی معطل ہیں۔ایران دوسرا بڑا اسلامی ملک ہے‘ ایرانی مساجد بھی مارچ کے پہلے ہفتے سے بندہیں‘ امام علی رضاؒ اورفاطمہ معصومہؒکے روضے تک بند کر دیے گئے ہیں‘ عراق میں بھی مارچ سے مساجد‘ مزارات اور روضے بند ہیں‘ کربلا اور نجف اشرف کی زیارات بھی مقفل ہیں‘ راستے تک بند کر دیے گئے ہیں‘ متحدہ عرب امارات‘ کویت‘ مراکو‘ لیبیا‘ قطر‘ اردن‘ تیونس‘ ترکی‘ ملائیشیا‘ تاجکستان‘ ازبکستان‘ الجیریا‘ افغانستان‘ بحرین‘ مالدیپ‘ انڈونیشیا‘ بھارت‘ بنگلہ دیش اور چیچنیا تک میں مساجد بند اور نمازی گھروں پر نماز پڑھ رہے ہیں۔آپ ذراغورکیجیے بیت المقدس بھی بند ہے اور اسرائیل میں عیسائیوں اور یہودیوں کی تمام قدیم اور جدید عبادت گاہیں بھی مقفل ہیں‘ فلسطین میں 15 سو سال بعد ایسٹر کی تقریب نہیں ہوئی‘ ویٹی کن سٹی کی عبادات بھی معطل ہو چکی ہیں‘ پوپ سوشل میڈیا پر دعا کراتا اور پوری دنیا کی عیسائی برادری یوٹیوب پر پوپ کا خطاب سن کر آمین کہتی ہے‘ یہودیوں کی دیوار گریہ تک بند کر دی گئی ہے اور اسرائیل کے سینا گوگ بھی سیل ہیں اور تمام بڑے ربی بھی قرنطینہ میں ہیں لیکن آپ کمال دیکھیے 245 ممالک کی اس دنیا اور 58 اسلامی ملکوں کی اس اسلامی دنیا میں صرف ایک ملک ہے جس کی مسجدیں آج بھی کھلی ہیں اور حکومت اور ریاست دونوں میں اتنی جرات‘ اتنی ہمت نہیں کہ یہ کرونا کے خوف کے باوجود انہیں بند کر سکے۔سعودی عرب نے مکہ اور مدینہ میں کرفیو لگا دیا‘ مسجد نبوی اور خانہ کعبہ بند کر دیا‘ طواف تک معطل کر دیا اور یہ ہو گیا‘ ایران اور عراق نے روضے اور زیارتیں بند کر دیں اور یہ ہو گئیں‘ مصر نے امام اور خطیب گرفتار کر لیے اور یہ ہو گئے اور ملائیشیا اور انڈونیشیا نے علماء کرام کو گھروں تک محدود کر دیا اور یہ بھی ہو گئے‘ یہودیوں نے بھی اپنی عبادت گاہوں کو تالے لگا دیے اور پوپ فرانسس نے بھی ویٹی کن سٹی بند اور چرچوں میں عبادت پر پابندی لگا دی اور یہ لگ گئی لیکن پاکستان میں حکومت یہ جسارت کر سکی اور نہ یہ ہو سکا۔سعودی عرب شاید اس سال حج کے ویزے نہ کھولے‘ ایران‘ عراق اور شام بھی زیارتوں پر پابندی برقرار رکھیں لیکن ہم یہ کریں گے اور نہ یہ ہو گا‘ حکومت نے 18اپریل کو علماء کرام کے ساتھ مل کر رمضان کے لیے 20 نقاطی ضابطہ اخلاق طے کیا‘ آپ آج لکھ لیجیے‘ اس ضابطہ اخلاق پر عمل نہیں ہو گا لیکن وہ حکومت جو میر شکیل الرحمن کو اٹھا کر جیل میں پھینک دیتی ہے یا میاں شہباز شریف کو کرونا کے دوران بھی نیب کے آفس طلب کر لیتی ہے یا پورے ملک کی انڈسٹری‘ دفتر‘ مارکیٹیں اور تعلیمی ادارے بند کر دیتی ہے۔اس میں کسی خطیب‘ کسی امام کے خلاف ایکشن لینے کی ہمت نہیں لہٰذا ریاست اس 20 نقاطی ضابطہ اخلاق پر عمل نہیں کرا سکے گی‘یہ آج تک علماء کرام کو چاند پر متفق نہیں کر سکی اور یہ تو ضابطہ اخلاق ہے‘ آپ ہمارے ایمان کی مضبوطی اور مذہب سے محبت کی انتہا ملاحظہ کیجیے‘ وہ کام جو سعودی عرب‘ مصر‘ ایران‘ عراق‘ شام اور ترکی میں نہیں ہو سکا‘ وہ ہم پاکستانیوں نے کر دکھایا‘ ہماری مسجدوں میں جمعہ بھی ہوا‘ باجماعت نمازیں بھی ہوئیں۔تبلیغ کا کام بھی چلتا رہا اور ایران‘ عراق اور شام سے زائرین بھی ملک میں آتے رہے اور ہم چین کے سمندر میں گھوڑے بھی دوڑاتے رہے‘آپ حقیقت دیکھیے‘ خانہ کعبہ‘ مسجد نبوی اور امام علی رضاؒ کا روضہ بند ہو گیا لیکن ہمارے خطاب اور ہماری مسجدیں آباد رہیں‘ ریاست انہیں بند نہ کر سکی اور اگر اس دوران پیر آبادکی لیڈی ایس ایچ اوشرافت خان نے یہ کوشش بھی کی تو نمازیوں نے خاتون افسر کی عینک بھی توڑ دی‘ اس کی وردی بھی کھینچ لی اور مسجد کی دہلیز پراسے دھکے بھی دیے‘ خاتون ایس ایچ او نے ایکشن لیا تو وزیراعظم کے حکم پر قانون توڑنے اور لیڈی ایس ایچ او کے ساتھ بدتمیزی کرنے والوں کو رہا کر دیا گیا‘ یہ ہیں ہم اور ہماری ریاست اور ہماری حکومت۔میں بہرحال اسے اسلام کی فتح اور پاکستانی ایمان کی کام یابی سمجھتا ہوں‘ ہم اسلامی دنیا بلکہ پوری دنیا میں لیڈ لے رہے ہیں‘ ہم نے ثابت کر دیا ایمان اگر پختہ ہو تو مرد مومن کرونا کے درمیان بھی باجماعت نماز ادا کرتا ہے اور کرونا اسے چھونے تک کی جسارت نہیں کرتا‘ یہ ہمارے ایمان کی مضبوطی ہے لیکن عجیب بات ہے اتنے ایمان اور اتنی پختگی کے باوجود ہم دنیاکے 117ملکوں میں ایمان داری میں 79نمبر پر آتے ہیں‘کرونا کے ہاتھوں تباہ ہونے والے دنیا جہان کے کافر ملک ہم سے زیادہ ایمان دار ہیں۔ہم ادویات اور خوراک میں ملاوٹ میں دنیا کے دس بدترین ملکوں میں شمار ہوتے ہیں‘ہم فضائی آلودگی کے شکار ملکوں میں دنیا میں دوسرے نمبر پر آتے ہیں‘ ہم غربت‘ جہالت اور بیماری میں بھی بدترین ملکوں میں ہیں اور ہم صفائی‘ تعلیم اور انصاف میں بھی پست ترین درجوں پر فائز ہیں‘ مجھے سمجھ نہیں آتی ہمارا ایمان یہاں آ کر کیوں سہم جاتا ہے‘ یہ برائی‘ جرم‘ بداخلاقی‘ ملاوٹ‘ جھوٹ اور گندگی کا مقابلہ کیوں نہیں کر پاتا‘ ہمارے امام‘ ہمارے خطیب‘ ہمارے مبلغ اور ہمارے علماء کرونا کو ڈرا لیتے ہیں۔یہ اسے مسجدوں سے بھگا دیتے ہیں لیکن یہ آج تک ملاوٹ‘ ذخیرہ اندوزی‘ ظلم‘ زیادتی اور جرم کو کیوں نہیں روک سکے‘ کافر ملک ہم سے ان شعبوں میں کیوں آگے ہیں‘ ہم کیوں آج بھی مسجدوں میں بیٹھ کر یورپ اور امریکا سے کرونا کی ویکسین طلوع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں تاہم میں اپنے ان باطل خیالات پر اپنے علماء کرام سے معافی چاہتا ہوں‘ میں انہیں مبارک باد بھی پیش کرتا ہوں ہم نے ثابت کر دیا ہم پوری اسلامی دنیا سے بہتر مسلمان ہیں‘ ہم چیمپیئن ہیں‘ ہم ونر ہیں۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں