پیر 13 جولائی 2020ء
پیر 13 جولائی 2020ء

لوگوں کو صرف کام پر لگا دیں

آپ نے حضرت یوسف ؑکا واقعہ سنا ہو گا‘وہ فرعون کی قید میں تھے‘ فرعون نے خواب دیکھا‘ ساقی حضرت یوسف ؑ کے پاس آیا‘ تعبیر معلوم کی‘ فرعون کو بتائی اور فرعون نے حضرت یوسف ؑ کو جیل سے نکال کر اپنا مشیر اور پھر وزیر بنا دیا اور حضرت یوسف ؑ نے مصر کو قحط سے بچا لیا‘ یہ مثال کیا ثابت کرتی ہے؟ یہ ثابت کرتی ہے مشکل حالات میں جیل میں قید لوگوں کو نکال کر کام لینے میں بھی کوئی ہرج نہیں ہوتا‘ یہ لوگ بھی مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ہ فارمولا مختلف ملکوں میں مختلف اوقات میں آزمایا گیا اور ہر بار اس کے اچھے نتائج نکلے مثلاً یورپی اقوام نے امریکا کی دریافت کے بعد اپنے قیدی جیلوں سے googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); نکال کر انہیں امریکا کی آباد کاری کا کام سونپ دیا تھا اور جیلوں میں سڑتے گلتے قیدیوں نے امریکا کو نئی دنیا بنا دیا تھا‘ یہ تجربہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی آباد کاری کے دوران بھی کیا گیا‘ برطانیہ نے اپنی جیلوں کے دروازے کھولے‘ مجرموں کو جہازوں میں بھرا اور آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کو آبادکرنے پر لگا دیا اور قیدیوں نے دنیا کا جنوبی کونا بھی آباد کر دیا‘ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں بھی قیدیوں کو جیلوں سے نکال کر محاذ جنگ پر بھجوا دیا گیا اور یہ کمال کرتے چلے گئے‘ چین آج بھی قیدیوں کو مختلف ہنر سکھا کر مختلف پراجیکٹس پر لگا دیتا ہے اور یہ جوں جوں پرفارم کرتے جاتے ہیں ان کی سزا کم ہوتی جاتی ہے‘ ہم یہ کیوں نہیں کرتے؟ ہم ملزموں اور مجرموں کو ”گھر داماد“ کیوں بنا کر رکھتے ہیں‘ ہم انہیں سرکاری خزانے سے کھانا‘ پانی‘ بجلی‘ پنکھا‘ ہیٹر اور کپڑے کیوں دیتے ہیں؟ حکومت کو چاہیے یہ ان کو بھی کام پر لگادے‘ یہ ان سے بھی مدد لے مثلاً حکومت انہیں کرونا وائرس کے خاتمے کا کام دے سکتی ہے‘ یہ قیدیوں کو جیلوں میں ٹریننگ دے‘ ان کے بازوؤں پر ٹریکنگ ڈیوائسز لگائے اور انہیں کرونا کے مریضوں کی خدمت پر لگا دے۔یہ لوگ اگر اچھا پرفارم کریں تو ان کی سزا کم کر دی جائے اور یہ اگر ہڈ حرامی کریں تو ان کی سزا میں اضافہ کر دیں یوں قیدی بھی ”ہنرمند“ ہو جائیں گے‘ مریضوں کو بھی فائدہ ہو گا اور ملکی خزانے کا بوجھ بھی کم ہو جائے گا‘ یہ فارمولا قیدیوں کے لیے تھا جب کہ سپریم کورٹ اور حکومت کو احد چیمہ جیسے بے گناہوں‘ باصلاحیت اور ذہین قیدیوں کے لیے ایک اور فارمولا بنانا چاہیے‘ یہ فارمولا کیا ہے؟ ہم اس فارمولے کی طرف آئیں گے لیکن ہم پہلے یہ جان لیں احد چیمہ ہے کون؟احد چیمہ پی اے ایس (پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس)کا20 ویں گریڈ کا انتہائی قابل افسر ہے‘ اس شخص نے جوانی میں کمال کر دیا‘ میں کامران لاشاری صاحب کا فین ہوں‘ ہماری سول سروس نے لاشاری صاحب جیسے لوگ بہت کم پیدا کیے ہیں‘ میں نے لاشاری صاحب سے ایک بار پوچھا ”کیا آپ بھی کسی پاکستانی افسر کے فین ہیں“ کامران لاشاری صاحب نے فوراً جواب دیا ”احد چیمہ“ ان کا کہنا تھا ”مجھے اس نوجوان کی پرفارمنس اور ڈیلیوری نے حیران کر دیا‘ میں لاہور میٹرو کی میٹنگز میں بیٹھتا تھا اور یہ جب کہتا تھا ہم ایک سال میں میٹرو بنا لیں گے تو میں ہنس پڑتا تھا۔میں سمجھتا تھا یہ کام پاکستان جیسے ملکوں میں دس سال میں بھی ہو جائے تو بڑی بات ہے لیکن اس شخص نے 11ماہ میں نہ صرف میٹرو بنا دی بلکہ چلا بھی دی‘ اسی طرح اس نے اڑھائی سال میں 1200 میگاواٹ کا بھکی پاور پلانٹ اور تین سال میں بلوکی اور حویلی بہادر شاہ کے1200میگاواٹ کے دو پلانٹ لگا کر اور چلا کر پورے ملک کو حیران کر دیا‘ یہ واقعی باصلاحیت اور فوکسڈ افسر ہے“یہ لاشاری صاحب کے الفاظ تھے‘ میں یہاں یہ اعتراف بھی کرتا چلوں میں احد چیمہ کا مخالف تھا۔یہ جتنا عرصہ سروس میں رہا میں اس کے خلاف تھا‘ اس کی کیا وجہ تھی میں آج تک نہیں جان سکا‘ شاید یہ مجھے متکبر محسوس ہوتا تھا یا پھر میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوں جو پرفارم کرنے والوں‘ ڈیلیور کرنے والوں کے خدا واسطے کے دشمن ہوتے ہیں لیکن نیب نے جب 21 فروری 2018ء کو اسے گرفتار کیا اور آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کیس میں اسے جیل میں ڈال دیا تو میں نے پہلی بار احد چیمہ کے بارے میں معلومات جمع کرنا شروع کیں اور میں اس کا فین ہوتا چلا گیا۔ملک میں جب تبدیلی آئی اور وفاق اور صوبائی حکومت دونوں مل کر سو ارب روپے لگانے کے باوجود اڑھائی سال بعد بھی پشاور میٹرو نہ چلا سکی‘ ملک میں بجلی کا کوئی نیا کارخانہ نہیں لگا‘ پورے کے پی کے میں پن بجلی سے ایک یونٹ بجلی نہ بنائی جا سکی اور جب وقت کے ساتھ ساتھ احد چیمہ کے خلاف سارے الزامات بھی غلط ثابت ہوتے چلے گئے تو میرے دل میں اس شخص کی قدر میں اضافہ ہوتا رہا‘ آگے چل کر پھر آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کا کیس بھی غلط نکلا۔نیب نے ایل ڈی اے کا کیس بھی بند کر دیا اور آخر میں قائداعظم پاور کمپنی اور پنجاب تھرمل کمپنی کی فائل بھی بند ہو گئی تومیں مکمل طور پر احد چیمہ کا فین ہو گیا‘ احد چیمہ کو جیل میں 25 ماہ ہو چکے ہیں‘ یہ اس لحاظ سے نیب کی حراست میں رہنے والا طویل مدتی ملزم ہے اور وہ بھی جرم کے بغیر‘ نیب اب تک اس کے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں کر سکالیکن ہم اگر ہم چند لمحوں کے لیے اسے مجرم بھی سمجھ لیں‘ ہم یہ مان لیں یہ ملک کا سب سے بڑا کرپٹ بیورو کریٹ ہے تو بھی ہمیں ماننا ہوگا یہ شان دار ترین افسر بھی تھا۔اس نے ریکارڈ مدت میں میٹرو اور پاور پلانٹس بنا کر پرفارمنس کے ریکارڈ قائم کر دیے تھے‘ ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا ہم ایسے باصلاحیت شخص کو جیل میں رکھ کر ضائع کر رہے ہیں لہٰذا میری سپریم کورٹ اور وزیراعظم سے درخواست ہے آپ احد چیمہ کو جیل سے نکالیں اور کرونا کے خاتمے کا یونٹ بنا کر اسے اس کا انچارج بنا دیں اور اسے ٹاسک دے دیں یہ ملک کو کرونا سے بھی پاک کرے گا اور پاکستان کو وباؤں سے بچانے کی کوئی ٹھوس پالیسی بھی بنا کر دے گا۔یہ اگر یہ کام کر دے تو عدالت اس کے کردہ اور ناکردہ گناہ معاف کر دے بصورت دیگر اسے دوبارہ جیل میں ڈال دیا جائے لیکن بہرحال ایک ٹیلنٹڈ افسر ضائع نہیں ہونا چاہیے‘ ہمیں آج یہ بھی ماننا ہوگا عوام ہزاروں اعتراضات کے باوجود نیب کی عزت کرتے تھے لیکن احد چیمہ‘ فواد حسن فواد‘ شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال کی گرفتاری نے نیب کی ساری عزت خاک میں ملا دی‘ خواجہ سعد فریق اور خواجہ سلمان رفیق کی رہائی بھی آخری کیل ثابت ہوئی‘ لوگ اب ادارے پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں‘آخر میں میر شکیل الرحمن کی رہائی کے بعد پورے ملک میں نیب پر یقین کرنے کے لیے کوئی تیار نہیں ہو گا۔کرونا کے قوارن ٹائین میں ہم سب کے پاس سوچنے کے لیے وقت ہے‘ پالیسی ساز بھی اندر بیٹھے ہیں اور پالیسی سازوں کی پالیسیاں بھگتنے والے بھی لہٰذا آپ سوچیے ہمارے ملک میں غربت کیوں ہے؟ ہمارے لاکھوں لوگ اس وقت کیوں راشن کے پیچھے بھاگ رہے ہیں‘ لاک ڈاؤن نے کیوں کروڑوں لوگوں کو کوڑی کوڑی کا محتاج کر دیا؟ میں زیادہ نہیں جانتا لیکن اس کے باوجود میرا خیال ہے ہمارے لوگ کام نہیں کرتے لہٰذا یہ غریب ہیں‘ کام کرنے کے لیے ہنر چاہیے اور ہماری 90 فیصد آبادی بے ہنر ہے چناں چہ ہم اگر لوگوں کو غربت سے نکالنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں انہیں ہنرمند بنانا ہو گا۔آپ سروے کر لیں آپ کو ملک میں ہر وہ شخص دوسروں سے بہتر اور کام یاب ملے گا جسے کوئی نہ کوئی ہنر آتا ہو گا‘ ہمیں چاہیے ہم آج فیصلہ کر لیں اگلے دس سال میں ہمارے ملک کا کوئی شخص بے ہنر نہیں رہے گا‘ حکومت دواڑھائی سو ٹریڈ بنائے اور پوری آبادی کو یہ سکھا دے‘ ان پڑھ لوگوں کو ہاتھ کا کام سکھایا جائے‘ کم پڑھے لکھوں کو ہاتھ اور دل سے کام کرنا سکھایا جائے اور پڑھے لکھے لوگوں کو ہاتھ‘ دل اور دماغ تینوں سے کام کا سلیقہ سکھایا جائے۔یہ ملک چند برسوں میں بدل جائے گا‘ آپ اس ملک میں صلاحیت کی قلت دیکھیے حکومت کو کرونا کے دوران ریسکیو ورکرز نہیں مل رہے‘ ہمارے ہسپتالوں کا عملہ بھی خود کو کرونا سے نہیں بچا پا رہا‘ آپ کسی دن سڑک پر کھڑے ہو جائیں‘ آپ کو پتا چلے گا ہماری نوے فیصد آبادی کو گاڑی چلانی نہیں آتی‘ یہ ٹریفک لائینزتک کو نہیں سمجھتے‘ ان کو سائنز کابھی پتا نہیں‘ ہمارے الیکٹریشن‘ پلمبرز اور ککس یورپ سے زیادہ معاوضہ لیتے ہیں لیکن انہیں کام نہیں آتا۔آپ ایوان صدر کے باتھ رومز میں جا کر دیکھ لیجیے‘ آپ کو صدر کے بیڈروم کی دیوار میں سیم اور باتھ روم کی ٹونٹی لیک کرتی نظر آئے گی‘ وزیراعظم ہاؤس کے ویٹرز چائے ڈالتے ڈالتے پرچ گندی کر دیتے ہیں اور چمچ پر داغ ہوتے ہیں‘ یہ کیا ہے؟ یہ بے ہنری اور ٹریننگ کی کمی کی انتہا ہے لہٰذا حکومت کچھ اور کرے یا نہ کرے لیکن یہ فیصلہ کر لے ہم اس ملک کے ہر شہری کو کوئی نہ کوئی ہنر ضرور سکھائیں گے‘ ملک میں 2040ء تک کوئی بے ہنر نہیں ہو گا۔آپ اگر احساس پروگرام کے وظائف لینے والوں کو ہی زبردستی ٹریننگ دینا شروع کر دیں تو بھی ملک بدل جائے گا‘ آپ یقین کریں ہم نے اگر لوگوں کی سوچ نہ بدلی تو ہمارے ملک میں اگر سونا بھی نکل آیا تو بھی ہم لوگوں کا کھانا پورا نہیں کر سکیں گے‘ لوگ پھر بھی بھوک سے مریں گے چناں چہ آپ لوگوں کو صرف اور صرف کام پر لگا دیں‘ ہمارے سارے مسئلے ختم ہو جائیں گے‘ ہمیں عزت اور رزق دونوں مل جائیں گے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں