هفته 11 جولائی 2020ء
هفته 11 جولائی 2020ء

اہم خبریں

چین نے دنیا کی سب سے سستی برقی کارتیار کر لی حیرت انگیز خصوصیات ، گھر بیٹھے آرڈر کروائیں

بیجنگ(آن لا ئن) چینی کمپنی نے دنیا کی ارزاں ترین کار تیارکرلی ہے جس کی قیمت صرف 930 ڈالر ہے اور اسے گھر بیٹھے آرڈر کیا جاسکتا ہے جس کے بعد یہ آپ کے پتے پر ارسال بھی کی جاسکتی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اس کار کا نام ’چینگلی‘ رکھا گیا ہےاور اسے چینگ زو ڑائلی کار انڈسٹری نے تیار کیا ہے۔ دنیا بھر میں لوگ برقی کاروں کی جانب متوجہ ہورہے ہیں۔ اس وقت چینگلی کار کا چرچا عام ہے جس پر آن لائن بات کی جارہی ہے۔ پاکستانی روپوں میں اس کی قیمت ڈیڑھ لاکھ googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1557484938290-0'); }); googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); روپے ہے جبکہ طاقتور اور بڑی بیٹیوں کے ساتھ اس کی قیمت 1200 ڈالر ہے جو دو لاکھ روپے کے لگ بھگ ہے۔کمپنی کے مطابق یہ دنیا کی سستی ترین برقی کار ہے جو جیب پر بھاری نہیں اور اس کی قوت ایک ہارس پاور سے کچھ زائد ہے لیکن یہ زیادہ سے زیادہ 30 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرسکتی ہے۔ لیکن اس قیمت میں بھی گاڑی کے اندر دیگر اہم لوازمات شامل ہیں جن میں ایئر کنڈیشننگ، سسپینشن، ہیٹر، ریڈیو اور ریورس کیمرہ بھی لگا ہوا ہے۔ لیکن اس کی سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ آپ آن لائن آرڈر دیجئے اور کار آپ کے گھر تک پہنچادی جائے گی۔

پاکستان

لاہور( این این آئی )پاکستان مسلم لیگ (ن)کے صدر و قائد حزب اختلاف محمد شہبازشریف نے پٹرول بحران انکوائری کمیٹی کی تحقیقات متعین مدت میں مکمل نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک بار پھر ثابت ہوگیا کہ حکومت چینی کی طرح پٹرول کے مجرم پکڑنے میںبھی سنجیدہ ہے اور نہ ہی اس میں جرات اوراہلیت ہے ،موجودہ حکومت مافیاز اور مافیاز حکومت کی مدد سے چل رہے ہیں ۔ا پنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پٹرول بحران پر حکومتی رویہ نے چینی سکینڈل کی یاد تازہ کردی ہے ،پٹرول بحران پر انکوائری کمیٹی googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1557484938290-0'); }); googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); کا 15 روز میں رپورٹ جمع نہ کرانا دال کالی ہونے کا اشارہ ہے ،جب عوام کو پٹرول نہیں مل رہا تھا تو ذخیرہ اندوزی کون کررہا تھا؟ ،اس سوال کا جوا ب نہیں آیا ،جون کے مہینے میں قلت کے دوران پٹرول کی فروخت زیادہ کیوں ہوئی؟ یہ پراسرار معمہ حل نہیں ہوا ،لاک ڈائون اور تیل کی قلت کے باوجود فروخت اتنی زیادہ کیوں سامنے آئی؟ ،اس سوال کاجواب اصل کہانی بتارہا ہے ،یہ امر حیران کن ہے کہ مئی کے مہینے میں فروخت 6 لاکھ 35 ہزار ٹن کیوں سامنے آئی ؟۔ انہوںنے کہا کہ مزید حیرت انگیز یہ ہے کہ جون میں پٹرول کی کھپت 7 لاکھ25 ہزار ٹن بتائی جارہی ہے یہ کیسے ہوا؟،لاک ڈاون کے باعث طلب میں کمی، قلت کے باوجود سیلز میں اتنا اضافہ کا مطلب صرف ذخیرہ اندوزی ہے ،حکومتی ملی بھگت سے پٹرول کے ذریعے قوم سے اربوں لوٹ لئے گئے ،موجودہ دور میں مافیاز کو عوام کو لوٹنے کا لائسنس دیدیا گیا ہے ہر شخص محسوس کررہا ہے کہ ملک میں حکومتی عمل داری نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔

انٹرنیشنل

حج سیزن کے لیے مکہ پہنچائے گئے قربانی کے جانوروں کا معائنہ

ریاض(این این آئی)مکہ مکرمہ صوبے میں ماحولیات، زراعت اور پانی کی وزارت نے رواں سال 1441 ہجری کے لیے حج سیزن کے سلسلے میں اپنی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ اس حوالے سے خصوصی تربیت یافتہ ویٹرنری(جانوروں کے علاج سے متعلق)عملہ فراہم کر دیا گیا ہے۔یہ عملہ رواں ماہ 20 ذو القعدہ سے لے کر حج سیزن کے اختتام تک اپنے فرائض انجام دے گا۔ اس عملے کی بنیادی ذمے داری قربانی کے لیے لائے جانے والے جانوروں کی صحت اور سلامتی کی تصدیق کے بعد انہیں مکہ مکرمہ کی اندر داخل ہونے کو یقینی بنانا ہے۔عرب ٹی وی کے googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1557484938290-0'); }); googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); مطابق حج سیزن کے لیے ویٹرنری ٹیموں کے آپریشنل پلان میں ان تربیت یافتہ اہل کاروں کا جدہ کی بندرگاہ سے مکہ لائے گئے جانوروں کے معائنے اور جانچ کے واسطے چوبیس گھنٹے کام کرنا شامل ہے۔مذکورہ سعودی وزارت کی جانب سے ویٹرنری ٹیموں کے ارکان کے لیے ایک ورچوئل ورک شاپ بھی منعقد کیا گیا۔ اس کا مقصد اہل کاروں کو حج سیزن پروگرام کی تربیت اور کام کے میکانزم سے آگہا کرنا تھا۔اس ورک شاپ میں اہل کاروں کی تعداد کم کرنے اور شفٹوں میں کام کے نظام کو وضع کرنے سے متعلق انتظامی اقدامات کو بھی زیر بحث لایا گیا۔ورک شاپ میں اس بات کو باور کرایا گیا کہ روں سال حج سیزن کو کامیاب بنانے کے لیے کرونا وائرس سے بچا کے سلسلے میں احتیاطی اقدامات اور حفاظتی تدابیر پر پوری طرح عمل درآمد کی ضرورت ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں